’گوانتانامو میں کوئی تکلیف نہیں تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیوبا میں امریکی جیل گوانتانامو سے رہا ہونے والے ایک افغان بچے کا کہنا ہے کہ اسے امریکیوں سے کوئی شکایت نہیں۔ تیرہ سالہ نقیب اللہ کو ایک سال قبل امریکی فوجیوں نے مشرقی افغانستان سے گرفتار کیا تھا۔ نقیب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کا اس کا زیادہ تر وقت امریکی جیل کے بچوں کے حصے کیمپ اِگوانا میں گزرا۔ اس نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے اور اسے جیل میں اپنے تجربے کے بارے میں بات کرنے میں کوئی اعتراض نہیں۔ گرفتار ہونے سے پہلے افغانستان سے باہر تو کجا وہ کبھی کابل تک بھی نہیں گیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ کچھ مسلح لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ اس نے امریکی فوجیوں کو بتایا تھا کہ وہ بے قصور ہے اور وہ تو بندوق چلانا بھی نہیں جانتا۔ گوانتانامو کی جیل میں دوسرے قیدیوں کے برعکس اسے نہ تو کیسری رنگ کے کپڑے پہنائے گئے، نہ اس کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے اور نہ ہی اس کے سر پر کپڑا چڑھایا گیا۔ بلکہ اس کے ساتھ رہا کئے جانے والے دوسرے دو لڑکوں کی طرح اس نے کسی دوسرے قیدی کو دیکھا تک نہیں۔ اس کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اس کے ساتھ امریکی فوج کے مہمان کی طرح برتاؤ کیا گیا۔ اس نے کہا کہ ’ہمیں قیدیوں کر طرح نہیں رکھا گیا۔ ہم پر کوئی تشدد نہیں ہوا۔ انہوں نے ہمارے ہاتھ نہیں باندھے اور انہوں نے ہمیں پڑھنا لکھنا سکھایا‘۔ نقحب اللہ نے اتنی انگریزی سیکھ لی تھی کہ اس نے امریکیوں سے اسے بے قصور جیل میں رکھنے کا ہرجانہ مانگ لیا۔ اس کا مطالبہ ہے کہ اسے اتنے پیسے دیئے جائیں کے وہ طِب کی تعلیم حاصل کر سکے۔ ایک سال گھر سے دور رہنے کے بعد نقیب اللہ گاؤں کی زندگی سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے والد گُل محمد امام مسجد ہیں۔ وہ امریکیوں سے ناراض نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکیوں نے نقیب اللہ کے ساتھ بھلا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’نقیب اللہ انگریزی بول سکتا ہے۔ وہ کچھ سیکھ کر واپس آیا ہے۔ اس کا اپنے بہن، بھائیوں کے ساتھ کے رویہ اچھا اور میرے ساتھ بھی عزت سے پیش آتا ہے۔ اس نے کابل اور دنیا کی دیگر بڑی بڑی جگہیں دیکھی ہیں‘۔ لیکن اب نقیب اللہ کو مشکل پیش آ سکتی ہے۔ جب میں اس کے گاؤں سے روانہ ہو رہا تھا تو اس نے شہر جانے کی خواہش کا اطہار کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||