عراق: شہری مسائل کا انبار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کی فتح کے دو سال بعد بھی وہاں کی آبادی کے شہری مسائل میں اضافہ ہوا اور ان میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ شہر میں بجلی نہ ہونے کے برابر ہے۔ہسپتالوں میں لوگوں کا علاج ہونا محال ہے ، شہر کی گندگی دریاؤں میں گرتی ہے جو عراقی آبادی کی اکثریت کے لیے پینے کے لیے پانی کا ذریعہ ہیں۔ عراق کے دارالخلافہ بغداد میں شہری سہولتیں ناپید ہو گئی ہیں، شہر میں گٹر ابل رہے ہیں اور سیوریج کا پانی شہر کی گلیوں میں نظر آتا ہے۔ لیکن ہرطرف خود کش بم حملوں سے بچنے کے لیے سیمنٹ کے بلاک نظر آتے ہیں۔ عراق کے بہت سارے علاقوں میں ترقی کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آتا اور دن کے چوبیس میں سے بارہ گھنٹوں سے زیادہ بجلی مہیا نہیں ہوتی۔ بغداد میں بجلی کے محکمہ کے ملازموں نے ایک جلوس نکالا جس میں انہوں نے شہر میں تشدد کی کاروائیوں اور تباہ کارویوں کی مذمت کی۔ مزاحمت کاروں کی طرف سے بجلی کی تنصیبات کو کئی دفعہ نشانہ بنایا چکا ہے۔ شہری سہولتوں کی نایابی کی سب سے بڑی وجہ عدم تحفظ بتائی جاتی ہے لیکن بجلی کے محکمہ کے حکام فنڈز کی عدم دستیابی کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ پبلک ورکس کے ایک اہلکار حمام مسکونی نے بتایا ہے کہ ان کا محکمہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے کچھ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ حمام مسکونی نے بتایا کہ ان کے محکمے نے پچھلے سال پانی کو صاف کرنے کے پندرہ پلانٹ پر کام شروع کیا تھا لیکن اس سال ایک بھی ایسا پراجیکٹ شروع نہیں ہو سکا ہے کیونکہ محکمہ کے پاس کوئی فنڈز ہی نہیں ہیں۔ حمام مسکونی نے کہا کہ جو پانی صاف سمجھ کر پیا جا رہا ہے وہ بھی صاف نہیں ہے۔ امریکی حکومت نے عراق کی تعمیرِ نو و کے لیے اٹھارہ ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔حمام مسکونی کہتے ہیں کہ ان کے محکمہ کے ستر فیصد فنڈ دفاع اور سلامتی کے محکموں کو دے دیئے گئے ہیں جس سے درجنوں ایسے پراجیکٹ جس پر کام ضروری تھی، کو ختم کرنا پڑا ہے۔ عراق میں پینے ناکافی پانی نایاب ہے جس کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عراق حکومت کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عراق میں ہر دس میں سے ایک بچہ پانچ سال کی عمر کو پہچنے سے پہلے ہی مر جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||