پندرہ ہزارامریکیوں کی واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی نائب وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکہ مارچ میں عراق سے اپنے پندرہ ہزار فوجی واپس بلا لے گا۔ پال ولف وٹز نے سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ یہ فوجی وہ ہیں جن کے عراق میں قیام کی میعاد میں تیس جنوری کے انتخابات کی بنا پر اضافہ کیا گیا تھا۔ پال ولف وٹز نے یہ بھی کہا کہ عراق میں حالات ابھی قابلِ اطمینان نہیں ہیں اور امریکہ 2005 کے دوران اپنے ایک لاکھ پینتیس ہزار فوجی عراق میں ہی رکھے گا۔ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں نائب وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے عراق سے فوجوں کی واپسی کا کوئی نظام الاوقات طے نہیں کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکی افواج عراقی سکیورٹی فورسز کی تربیت کر رہی ہیں تاہم ابھی عراق میں بہت کام کرنا باقی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کی وجہ انتخابات میں عوام کی شرکت اور خلافِ توقع تشدد کے کم واقعات ہیں۔ انتخابات کے بعد تشدد کے واقعات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں اور امریکی گوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ال انبار صوبے میں دو امریکی فوجیوں کو مار دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||