اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ایک عراقی شہری کے قتل کے الزام میں برطانیہ کے سات فوجیوں پر مشترکہ طور پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ ان فوجیوں پر پُرتشدد بدنظمی کا الزام بھی ہے۔ یہ فردِ جرم گیارہ مئی دو ہزار تین کو عراق کے جنوب میں العزیرہ کے مقام پر سڑک کے کنارے ندیم عبداللہ کے قتل سلسلے میں عائد کی گئی ہے۔ ان سات ملزمان میں کاپورل سکاٹ ایونز، پرائیویٹ ولیم نرنی اور ڈینیئل ہارڈنگ کے علاوہ دیگر کے نام انہیں الزامات سے آگاہ کرنے کے بعد واضح کیے جائیں گے۔ اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جبکہ حکومت اور مسلح افواج کے لیے کڑی گھڑی ہے۔ عدالت کے حکم پر حکومت اس بات پر مجبور ہو گئی ہے کہ وہ عراقی شہری باہا موسیٰ کے قتل کی آزادانہ چھان بین کرائے۔ باہا موسیٰ ہوٹل میں کام کرنے والے اُن چھ محنت کشوں میں سے ایک تھے جنہیں جنوبی عراق میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دوسری جانب ایک برطانوی فوجی کے خلاف عراقی قیدیوں کو جبراً برہنہ کرنے کے الزامات خارج کر دیئے گئے ہیں۔ |