BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 May, 2004, 15:19 GMT 20:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرائے کے فوجیوں کے خلاف کاروائی کیسے کی جائے؟
’کرائے کے فوجیوں‘
عراق میں کام کرنے والے ’کرائے کے فوجیوں‘ پر کونسا قانون لاگو ہوتا ہے؟
عراق میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عراقی قیدیوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ بدسلوکی کی تصاویر نشر کئے جانے کے بعد اگرچے قانونی کاروائی شروع کی جاچکی ہے لیکن برطانیہ کے اخبار گارڈین میں چھپنے والے ایک مضمون کے مطابق یہ سارا واقعہ ایک اور اہم پہلو کی طرف توجہ دلاتا ہے اور وہ ہے فوج میں کی جانے والی نج کاری۔

عراق میں تعینات کئے جانے کے لئے فوجیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لئے امریکی فوج نے بڑے پیمانے پر جیلوں کی حفاظت اور تفتیش کا کام نجی ٹھیکداروں کو سونپا لیکن یہ سارا کچھ عوامی سطح پر کسی بحث کے بغیر کیا گیا۔ اور اب اس نج کاری کی وجہ سے ان حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

گارڈین اخبار کے مطابق عراق میں اس وقت تقریباً بیس ہزار پرائیویٹ ٹھیکدار کام کررہے ہیں جو ترسیل کے کام سے لے کر ٹریننگ اور مختلف مقامات کی حفاظت تک کا کام کررہے ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق عراق میں پرائیویٹ فوجیوں کی اس صنعت کو اس حد تک استعمال کیا جارہا ہے کہ اس انڈسٹری کے کچھ حکام کا کہنا ہے کہ عراق اس وقت ان لوگوں کے لئے ایک سونے کی کان ہے۔

لیکن اس سلسلے میں سب سے حیران کن فیصلہ جیلوں میں قیدیوں سے تفتیش کرنے کا کام پرائیویٹ کمپنیوں کو سونپنے کا ہے۔کیکی اور ٹایٹن جیسی بڑی کمپنیوں کو اس کام کا بہت معاوضہ مل رہا ہے۔ ٹایٹن کو اس سلسلے میں ایک سو بہتر ملین ڈالر کا پروجیکٹ ملا ہے۔

لیکن اخبار کے مطابق پرائیویٹ کمپنیوں کو اس طرح کے کام سونپنے میں مسئلہ یہ ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ نجی کمپنیاں کونسے قواعد وضوابط کی پابند ہونگی۔ اگر فوجی اس نوعیت کی قانونی خلاف ورزیاں کریں تو ان کے خلاف کاروائی کے لئے باقاعدہ طریقہ کار وضح ہے لیکن پرائیویٹ یا کرائے کے فوجیوں پر، جو سویلین لوگ ہیں، کونسے قانون لگائے جائیں۔ عموماً ایسی صورت میں ایسے سویلین افراد کے خلاف اس ملک کا قانون لاگو ہوتا ہے جس میں ان لوگوں نے جرائم کئے ہوں۔ لیکن عراق میں چونکہ کوئی واضح قانونی ڈھانچہ موجود نہیں ہے تو ان افراد کے خلاف کاروائی ایک ْرا مسئلہ بنا ہوئی ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین نے تجویز کیا ہے کہ اگر اس سلسلے میں نئے قوانین بھی بنانے پڑیں اور ماضی کی قانونی روایات کو توڑنا بھی پڑے تب بھی ان افراد کو جنہوں نے مبینہ طور پر عراقی قیدیوں کے ساتھ باسلوکی کی ہے، سخت سزا ملنی چاہئیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد