’تشدد کی تصاویر مشکوک ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں خدمات انجام دینے والے برطانوی فوجیوں نے ان تصاویر کے سچا ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے جو گزشتہ روز برطانوی اخبار ڈیلی میرر میں شائع ہوئی تھیں اور جن میں ایک برطانوی فوجی کو ایک عراقی قیدی کو ایذا پہنچاتے دکھایا گیا تھا۔ ان تصاویر میں ایک عراقی قیدی نظر آ رہا ہے جس کے سر پر تھیلا چڑھا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ایک دوسری تصویر میں ایک برطانوی فوجی اسے دھمکی آمیز انداز سے دیکھ رہا ہے جبکہ ایک اور تصویر میں ایسا لگتا ہے کہ ایک فوجی مذکورہ قیدی پر پیشاب کر رہا ہے۔
تاہم بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجی حکام نے ان تصاویر میں کئی ایسی خامیوں کی نشاندہی کی ہے جن سے لگتا ہے کہ یہ جعلی ہیں۔ مثلاً فوجی کے پاس جو آلات ہیں وہ کوئین لنکاشر رجمنٹ کے سپاہیوں کے استعمال میں نہیں ہیں۔ ادھر برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ اگر مذکورہ واقعہ حقیقت پر مبنی ہے تو یہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ روزنامہ ڈیلی میرر نے لکھا تھا کہ اس قیدی کو آٹھ گھنٹے تک اس عذاب سے گزرنا پڑا جس کے نتیجہ میں اس کا جبڑا اور دانت ٹوٹ گئے اور بالآخر اسے چلتی گاڑی سے دھکا دیکر باہر پھینک دیا گیا۔
اخبار کے مطابق یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا وہ زندہ بچا یا نہیں۔ ان تصاویر کی اشاعت کے فوراً بعد فوج کے ایک اعلیٰ جنرل مائیک جیکسن نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں ہیں۔ جنرل جیکسن کا کہنا تھا کہ چند فوجیوں کے شرمناک رویہ کی بنیاد پر فوج کو نہیں جانچنا چاہئے۔ اگرچہ یہ مناظر اتنے سنگین نہیں ہیں جتنا کہ ایک امریکی ٹی وی چینل نے گزشتہ دنوں نشر کیے تھے جن میں ایک جیل کے اندر امریکی فوجیوں کو عراقی قیدیوں کو ننگا کرکے اذیت پہنچاتے دکھایا گیا تھا۔ پھر بھی ان کے نتائج برطانوی فوج کی اس شہرت کے لئے سنگین ہو سکتے ہیں جو اس نے جنوبی عراق میں اپنے بہتر رویہ سے کمائی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||