BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 April, 2004, 07:50 GMT 12:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تابوتوں کی تصاویر کیسے روکیں؟‘
News image
پینٹاگون کے وکلاء نےاس بات پر غور شروع کر دیا ہے کہ کیا کسی غیر ملک سے امریکی فوجیوں کی لاشوں کی تصاویر کی اشاعت مستقبل میں روکی جا سکتی ہے یا نہیں۔

ایک عدالتی حکم کے تحت امریکی ایئر فورس کو محکمۂ دفاع کے اہلکاروں کی کھینچی ہوئی امریکی تابوتوں کی تصاویراطلاعات کی آزادی کے قانون کے تحت جاری کرنی پڑی تھیں جنہیں بعد میں ویب پرشائع کردیا گیا۔

ویب سائٹ پر شائع ہونے والی یہ تین سو اکسٹھ تصاویر ان امریکی فوجیوں کی ہیں جو عراق میں مختلف جنگی کارروائیوں یا حادثات میں میں ہلاک ہوئے اور جن کے تابوت عراق سے امریکی فضائی اڈوں پر واپس لائے گئے ہیں۔

پینٹاگون ممکنہ قانونی چارہ جوئی کے لئے انیس سو اکانوے میں ملک سے باہر ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی لاشوں کی واپسی کی کوریج پر پابندی کے قانون کا سہار لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ اس قانون کا مقصد جنگ کی قیمت کو چھپانے کے مترادف ہے۔

دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ تابوتوں کی تصاویر کی اشاعت پر پابندی غمزدہ خاندانوں کے مفاد میں ہے۔

امریکی جھنڈوں میں لپٹے ہوئے امریکی فوجیوں کی لاشوں کے تابوتوں کی تصویریں گزشتہ ہفتے ایک سرگرم کارکن رس کِک کو جاری کی گئی تھیں جنہوں نے اطلاعات کی آزادی کے قانون کے تحت عدالت میں کہا تھا کہ وہ ان تصاویر کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے ان تصاویر کو میموری ہول نامی اپنی ویب سائٹ پر شائع کر دیا۔

دفاع کے لئے امریکی نائب وزیرجون مولینو کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے وکلاء غور کر رہے کہ کیا مستقبل میں ایسی تصاویر کے جاری کرنے پر پابندی لگ سکتی ہے اور کیا اس سے اطلاع کی فراہمی میں آزادی کے قانون کو زک تو نہیں پہنچتی۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلاء اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا امریکی پالیسی اور قانون میں تضاد تو نہیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو کیا کسی قسم کا کوئی ابہام تو نہیں جس کے باعث تصاویر جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔

مولینو نے کہا کہ ذاتی طور پر وہ ایسی تصاویر کی اشاعت پر کچھ حد تک پابندی عائد کرنے کے حق میں ہیں۔ ’ہمیں لواحقین سے بات کرنے کے بعد پتہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مرنے والے فوجیوں کے ساتھ بھی احترام کا سلوک کیا جائے۔‘

دفاع کے نائب وزیر نے اس بات کی تردید کی کہ پابندی کی کوشش کا مقصد اس سیاسی نقصان کو کم کرنا ہے جس کا سامنا امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور عراق پر امریکی پالیسی کے باعث اس وقت بش انتظامیہ کو ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد