عراقی قیدیوں پر برطانوی تشدد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی اخبار ڈیلی میرر نے ایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں برطانوی فوجیوں کو عراقی قیدیوں کو اذیت پہنچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان تصاویر میں ایک عراقی قیدی نظر آ رہا ہے جس کے سر پر تھیلا چڑھا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ایک دوسری تصویر میں ایک برطانوی فوجی اسے دھمکی آمیز انداز سے دیکھ رہا ہے جبکہ ایک اور تصویر میں ایسا لگتا ہے کہ ایک فوجی مذکورہ قیدی پر پیشاب کر رہا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس قیدی کو آٹھ گھنٹے تک اس عذاب سے گزرنا پڑا جس کے نتیجہ میں اس کا جبڑا اور دانت ٹوٹ گئے اور بالآخر اسے چلتی گاڑی سے دھکا دیکر باہر پھینک دیا گیا۔ اخبار کے مطابق یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا وہ زندہ بچا یا نہیں۔ ان تصاویر کی اشاعت کے فوراً بعد فوج کے ایک اعلیٰ جنرل مائیک جیکسن نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں ہیں۔ جنرل جیکسن کا کہنا تھا کہ چند فوجیوں کے شرمناک رویہ کی بنیاد پر فوج کو نہیں جانچنا چاہئے۔ اگرچہ یہ مناظر اتنے سنگین نہیں ہیں جتنا کہ ایک امریکی ٹی وی چینل نے گزشتہ دنوں نشر کیے تھے جن میں ایک جیل کے اندر امریکی فوجیوں کو عراقی قیدیوں کو ننگا کرکے اذیت پہنچاتے دکھایا گیا تھا۔ پھر بھی ان کے نتائج برطانوی فوج کی اس شہرت کے لئے سنگین ہو سکتے ہیں جو اس نے جنوبی عراق میں اپنے بہتر رویہ سے کمائی ہے۔ جنرل جیکسن نے کہا کہ ایسی گھناؤنی حرکتوں کا ارتکاب کرنے والے افراد کو ملکہ کی رجمنٹ کی وردی پہننے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان سپاہیوں کی شناخت فی الحال نہیں ہوئی ہے تاہم خیال ہے کہ ان کا تعلق ملکہ برطانیہ کی لنکاشر رجمنٹ سے ہے۔ اس رجمنٹ کے خلاف ایک عراقی کو تحویل میں ہلاک کرنے کی پہلے ہی سے تحقیقات جاری ہیں۔ یہ تصاویر عرب دنیا میں بھی دیکھی گئی ہوں گی جہاں لوگ پہلے ہی سے غضبناک ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||