عراق میں امریکی جیلوں سے 126 رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے اتوار کو عراق میں ایک سو چھبیس عراقی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ عراق میں فوج کے زیر حراست دو بڑی جیلوں میں پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی یا ان پر مقدمات چلانے کے عمل کو تیز کرے۔ بغداد کے عامریہ ضلع میں ایک عراقی نیشنل گارڈ کی چوکی سے چوالیس قیدی رہا کیے گئے۔ ان کو ایک قبائیلی رہنما کی ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔ قبائیلی رہنما شیخ ہشام الدلیمی اور دوسرے سنی رہنما ان قیدیوں کو خوش آمدید کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ رہا ہونے والے ایک اکیس سالہ قیدی احمد کردی نے بس میں سے ہی ’فلوجہ زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا۔انہوں نے بتایا کہ انہیں ان کے بھائی کے ساتھ پینتالیس دنوں تک بغداد کی بدنام ابو غریب جیل میں رکھا گیا۔ امریکی فوج نے انہیں عامریہ میں ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ کردی کے دو اور بھائی بھی جیل میں ہیں ان میں سے ایک نو ماہ سے جنوبی شہر ام قصر کے باہر کیمپ بکہ میں قید ہیں۔ کردی نے جو فٹ بال شرٹ پہنے ہوئےتھے بتایا کہ انہیں ابھی تک معلوم نہیں کہ انہیں کس وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی طرح سترہ سالہ محمود دیا کو جنہیں ابو غریب جیل میں پندرہ ماہ تک رکھا گیا بھی معلوم نہیں کہ انہیں کیوں جیل بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا نہ تو انتہا پسندوں کے ساتھ تعلق ہے اور نہ ہی میرے پاس کوئی ہتھیار ہے۔ انہوں نے مجھے گلی میں سے ایسے ہی اٹھا لیا تھا‘۔ سترہ سالہ علی علوان نے جنہیں چودہ ماہ تک ابو غریب میں رکھا گیا بتایا کہ انہیں اس وقت جیل میں ڈالا گیا جب امریکی فوج کے ایک کویتی ترجمان سے ان کا جھگڑا ہوگیا تھا۔ بغداد کے ایک ریسٹورانٹ میں ترجمان نے علوان کی ماں کو برا بھلا کہا جس پر جھگڑا شروع ہوا تھا۔ علوان نے بتایا کہ ’تفتیش کے دوران انہوں نے مجھے بڑی بے دردی سے مارا اور میری پسلی کی ایک ہڈی توڑ دی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے میں سو مرتبہ مرا ہوں‘۔ لوگ ایک لمبی داڑھی والے شخص کے گرد جمع ہوگئے جو امریکیوں پر غیر امتیازی گرفتاریوں کا الزام لگا رہا تھا۔اڑتیس سالہ شیخ محمد الذبیدی نے کہا کہ اسے ایک ماہ تک ابو غریب جیل میں رکھا گیا۔ انہیں ایک رات امریکی فوج نے درا ضلع میں ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ’فوجیوں کو میرے گھر میں ایک اخبار ملا جس میں فلوجہ کے بارے میں ایک مضمون تھا۔ جس کے بارے میں انہوں نے مجھ سے سوالات کرنے شروع کر دیے‘۔ امریکی فوج کے کیپٹن بل میریڈتھ نے مانا ہے کہ ان سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور ان میں جھوٹی معلومات کی وجہ سے گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||