عراقی قیدیوں سے بد سلوکی، بش نا خوش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے عراق میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ بھی عالمی برادری کی طرف سے اظہارِ ناپسندیدگی میں برابر کے شریک ہیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکہ کے ایک ٹی وی چینل نے ایسی تصاویر نشر کی ہیں جن میں بغداد کی ابو غریب جیل میں امریکی فوجیوں کو مبینہ طور پر عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے دکھایا گیا ہے۔ سی بی ایس نامی ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسی درجنوں تصاویر ہیں جو امریکی فوجیوں نے لی ہیں اور جن میں عراقی قیدیوں کے ساتھ مختلف طرح کی بدسلوکیاں کرتے دکھایا گیا ہے۔ ان تصاویر میں کئی امریکی فوجیوں کو اس ساری کاروائی کونظر انداز کرتے ہوئے اس طرح کے سلوک کی بظاہر حمایت کرتے دکھایا گیا ہے۔ سی بی ایس ٹی وی کے مطابق اس کے پاس موجود تصاویر کے مطابق عراقی قیدیوں پر مختلف نوعیت کی زیادتیاں کی جا رہی ہیں جن میں کئی قیدیوں کے نازک اعضا کو دھاتی تار سے باندھا گیا ہے، ان کو زبر دستی ایک دوسرے کے ساتھ سیکس کرنے کی ایکٹنگ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک قیدی کے جسم پر گالیاں لکھی گئی ہیں اور ایک اور پر ایک کتے سے حملہ کروایا گیا ہے۔ ابوغریب کی جیل عراق کے سابق صدر صدام حسین کے مخالفین پر مبینہ طور پر تشدد کے لئے استعمال کئے جانے کی وجہ سے بہت بدنام رہی ہے۔ امریکی فوج نے پچھلے مہینے اعلان کیا تھا کہ اس نے سترہ امریکی فوجیوں کو قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے کے الزامات کے بعد معطل کردیا تھا۔ ان میں ابو غریب جیل کی سپر وائزر ایک خاتون جنرل جینیس کارپینسکی بھی زیر تفتیش ہیں جبکہ ان میں سے چھ دوسرے افراد کو کورٹ مارشل کا سامنا ہے۔ امریکی فوج کے بریگیڈیئر جنرل مارک کیمیٹ نے سی بی ایس ٹی وی کو بتایا کہ حکام فوجیوں کے رویے پر بہت حیران ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ چند فوجیوں کے رویے کو عراق میں موجود امریکہ کے باقی ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کے مجموعی رویے کا پیمانہ نہیں بنانا چاہئیے۔ سی بی ایس ٹی وی نے ایک ایسے امریکی فوجی سے بھی بات کی جس پر اس طرح کی زیادتیاں کرنے کا الزام ہے۔ اس ریزرو فوجی کا، جو امریکہ میں جیل کے ایک افسر کے طور پر کام کرتا ہے، کہنا ہے کہ اسے اور دوسری فوجیوں کو افسران نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں قیدیوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھنا ہے اور یہ کہ وہ کس حد تک جا سکتے ہیں۔ خود امریکی فوج کی تفتیش سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان افراد کو قواعد و ضوابط کی کوئی تربیت نہیں دی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||