| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قیدیوں کی عراق واپسی کی تیاری
پاکستان کے صوبہ سرحد میں حکام نے سوموار کے روز دو قید عراقی باشندوں کو ان کے ملک واپس بھجوانے کے سلسلے میں پشاور سے راولپنڈی کی اڈیالا جیل منتقل کر دیا ہے۔ ان دو عراقیوں کی رہائی جن کے نام فاضل ابراھیم اور بشیر ابراھیم بتائے جاتے ہیں پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر عمل میں لائی جا رہی ہے۔ یہ اور ان کی طرح کئی دیگر عرب باشندے پشاور کی سینٹرل جیل میں گذشتہ کئی برسوں سے قید ہیں۔ انہیں افغانستان سے پاکستان میں غیرقانونی طور پر داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے حکام جیسے کہ انہیں بھول ہی گئے تھے۔ نہ تو ان پر کوئی مقدمہ چلا اور نہ انہیں رہا کیا گیا۔ پھر ان عربوں میں سے اکثریت خود بھی اپنے ممالک کو لوٹنے کو تیار نہیں تھے کیونکہ وہ وہاں کی حکومتوں کے جانب سے کسی اچھے رویے کی امید نہیں رکھتے تھے۔ ان عربوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پہلے روسی اور بعد میں امریکی افواج کے خلاف لڑنے کی غرض سے گئے تھے۔ لیکن وہاں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد انہوں نے پاکستان کا رُخ کیا۔ تاہم یہ عرب اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ وہ ’جہاد‘ کی غرض سے افغانستان پہنچے تھے۔ ان مقید عربوں کی رہائی اور انہیں واپس بھیجنے کی جستجو میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق رکن جاوید ابراہیم پراچہ لگے ہیں۔ انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں ان عربوں کی رہائی کے لئے درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے اُن کے خلاف کوئی الزام یا مقدمہ نہ ہونے کی صورت میں ان کی رہائی کا فیصلہ سنایا تھا۔ ان عراقیوں کی رہائی اسے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ البتہ ان عراقیوں نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے یا امریکی حکام کے حوالے کرنے کی تجویز کی مخالفت کی تھی۔ اب ان کے لئے ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کا انتظام بھی جاوید پراچہ نے کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||