’ٹارچر: منظوری نہیں دی تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے ایک خفیہ دستاویز کے سینکڑوں صفحات شائع کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں پر ٹارچر یا ایذارسانی کی کبھی سرکاری سطح پر منظوری نہیں دی گئی۔ اس دستاویز کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگن نے انتظامیہ کے وکلاء کی قیدیوں کے ساتھ جارجہ پالیسی اپنانے کی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ اس دستاویز کی اشاعت سے توقع کی جا رہی ہے کہ ٹارچر کی خبروں کے آنے کے بعد یہ امریکی عوام کو قدرے مطمئن کرنے میں مددگار ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ عراق میں ہونے والے تشدد یا ٹارچر کو روکنے کے لیے اعلیٰ سطح پر کیا اقدامات کیے گئے تھے اس بارے میں دستاویز میں کچھ نہیں ہے۔ بغداد کی جیل ابو غریب میں عراقی قیدیوں پر کیے جانے والے تشدد کی تصاویر کی اشاعت کے بعد دنیا بھر میں اس کی مذمت کی گئی اور امریکہ پر تنقید ہوئی۔ ان کاغذات میں صدر بش کا ایک مراسلہ بھی شامل ہے جس میں صدر بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی قوانین کی ضرورت پر زور دیا ہے تاہم ساتھ ہی کہا ہے کہ اس جنگ میں پکڑے جانے والوں سے انسانی برتاؤ کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||