’اوپر سے حکم نہیں تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی قیدیوں کی نگرانی کرنے والے یونٹ نے جنرل جینس کارپنسکی کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ قیدیوں کو ٹارچر کرنے کے احکامات اوپر سے آئے تھے۔ اس قبل برگیڈیئر جنرل جینس کارپنسکی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کی جگہ لینے والے جنرل جیوفری مِلر نے ان سے کہا تھا کہ قیدیوں کے ساتھ کتوں جیسا سلوک کیا جائے۔ جنرل ملر کے ترجمان کرنل بیری جانسن نے جنرل کرپنسکی کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ جنرل کاپنسکی نے بی بی سی ریڈیو فور کے ایک پروگرام ’ آن دی روپس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں اعلیٰ ترین امریکی کمانڈر جنرل رکارڈو سانچیز سے یہ دریافت کیا جانا چاہیے کہ وہ عراقیوں کے ساتھ برتی گئی بدسلوکی کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ اس سکینڈل کے تناظر میں ایک فوجی کو سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ چھ کا کورٹ مارشل ابھی کیا جانا ہے۔ عراقی قیدیوں کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کے موقع پر جنرل کارپنسکی ابو غریب اور دیگر جیلوں کا انتظام سنبھالنے والی ملٹری پولیس کی سربراہ تھیں۔ انہیں بعد میں معطل کر دیا گیا تھا البتہ ان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔ اپریل کے مہینے میں ایسی تصاویر منظر عام پر آئی تھیں جن میں قیدیوں کو برہنہ حالت میں بدسلوکی کا نشانہ بنتے دکھایا گیا تھا جس کے باعث دنیا بھر کے ممالک نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ جنرل کارپنسکی نے کہا ہے کہ فوج کے خفیہ ادارے نے جیل کے ایک حصے میں گوانتانامو کی طرز پر پوچھ گچھ کا سلسلہ چلا رکھا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ گوانتانامو کے سابق اور عراقی قیدیوں کے موجودہ چیف بغداد آ کر ان سے ملے اور کہا کہ ’یہ لوگ کتوں کی طرح ہیں اور اگر تم نے انہیں یہ احساس بھی ہونے دیا کہ وہ کتوں سے کچھ بہتر ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر تمہارا کنٹرول نہیں رہا۔‘ جنرل کارپنسکی نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ وہ عراقی قیدیوں سے کی جانے والی زیادتیوں اور ان پر کیے گئے تشدد سے پوری طرح لاعلم ہیں اور انہیں محض قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ بدسلوکی کے واقعات کی چھان بین کرنے والے امریکی جنرل نے فوجیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا لیکن انہیں اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ ’فوجیوں کو ایسی ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ قیدیوں سے اس طرح کا سلوک کریں۔‘ جنرل کارپنسکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ زیادتی کی تصاویر فوجیوں نے نہیں بنائی تھیں کیونکہ انہیں اپنی کارستانیوں کی تصاویر بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابو غریب جیل میں موجود ملٹری پولیس کا دستہ اتنا طویل عرصہ وہاں تعینات نہیں رہا کہ وہ اپنی مرضی سے کسی وقت قیدیوں کو باہر بلا کر باآسانی ان کی تصاویر بنا سکا ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||