ابو غریب کی نئی تصاویر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ابوغریب میں عراقی قیدیوں پر تشدد کی نئی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں جن میں دو امریکی فوجیوں کو ایک قیدی کی لاش کے ساتھ فاتحانہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ یہ امریکی فوجی ایک قیدی کی لاش کے ساتھ انگوٹھے دکھا کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اعلی امریکی فوجی حکام کا اصرار ہے کہ ابو غریب میں ہونے والے تشدد کے واقعات کو سرکاری سرپرستی یا منظوری حاصل نہیں تھی۔ بدھ کے روز ایک امریکی فوجی جرمی سیوسٹ کے اعتراف جرم کے بعد انہیں ایک سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ ابو غریب کی تازہ ترین تصاویر امریکی ٹیلی ویژن چینل اے بی سی پر نشر کی گئیں۔ ان تصاویر میں جن دو امریکی فوجیوں کو دکھایا گیا ہے ان کے نام ہیں سیبرینہ ہرمین اور چارلس گارنر۔
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی دارالحکومت میں ان تازہ تصاویر سے ایک بار پھر غم کا وہی ماحول پیدا ہو جائے گا جو سینٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے امریکی سنٹرل کمانڈ کے سابق جنرل جوزف ہور کا بیان قلم بند کرتے ہوئے دیکھنے میں آیا تھا۔ جمعرات کو امریکی صدر رپبلکن پارٹی کے ارکان سے ملاقات کرنے والے ہیں جس میں وہ عراق کی صورت حال پر غور کریں گے۔ امریکی سینٹ کی کمیٹی میں سماعت کے دوران جنرل جان ابی زید نے بتایا کہ عراق اور افغانستان دونوں ہی ملکوں میں قیدیوں سے تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ سینٹ کی کمیٹی میں سماعت کے دوران عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر لیفٹینٹ جنرل ریکارڈو سانچز اور عراق میں جیلوں کے انچارج جنرل جیفری ملر بھی بیان دے چکے ہیں۔ جنرل ملر نے اعتراف کیا کہ خیلج گوانتامو میں بھی قیدیوں سے تشدد کے اکا دکا واقعات ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی گئی کہ قیدیوں سے تشدد کو سرکاری تائید حاصل تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||