صحافیوں کے ساتھ بھی بدتمیزی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے سلسلے میں جہاں امریکی فوج کو شدید تنقید کا سامنا ہے وہاں بدسلوکی کے حوالے سے امریکہ کو کچھ نئی تصاویر اور الزامات کا سامنا ہے۔ ایسے میں ایک طرف تو ان امریکی فوجیوں کے کورٹ مارشل کی تیاریاں ہو رہی ہیں جن پر بغداد کی ابو غریب جیل میں عراقی قیدیوں سے ناروا سلوک کرنے کے الزامات ہیں، بدسلوکی کے نئے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مگر اس بار یہ مبینہ زیادتیاں قیدیوں سے نہیں بلکہ صحافیوں سے کی گئی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس کے تین مقامی نامہ نگاروں کو جن میں صحافی احمد محمد حسین البدرانی، کیمرہ مین سلیم عریبی اور ڈرائیور ستار جابر البدرانی شامل ہیں اُن کو جنوری اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب وہ فلوجہ کے قصبہ میں امریکی ہیلی کاپٹروں سے کی جانے والی بمباری کی رپورٹنگ کے لئے وہاں گئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق ان کی نگرانی پر مامور اہلکاروں نے ان صحافیوں کو گندی گالیاں دیں اور مذہبی تضحیک کا نشانہ بنایا۔ ایک امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ ان تین عراقیوں کے ساتھ کسی قسم کا تشدد یا بدتمیزی نہیں کی گئی ہیں۔ جبکہ رائٹرز کے گلوبل منیجنگ ایڈیٹر ڈیوڈ نے اس بارے میں تفتیش کے لیے اپیل کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||