BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 May, 2004, 03:13 GMT 08:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بد سلوکی منصوبے کے تحت نہیں‘
News image
امریکی فوجی کمانڈروں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کے چارج میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکیوں کا کوئی سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔

واشنگٹن میں سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے سامنے پیشی کے وقت کمانڈر جان ایبی زید نے کہا کہ بد سلوکیوں کی وارداتیں ضرور ہوئی ہیں اور یہ وارداتیں نہ صرف عراق میں بلکہ افغانستان اور گوانتا نامو میں بھی ہوئی ہیں۔

لیکن سارے کمانڈروں نے اس بات کی تردید کی کہ ان بدسلوکیوں کی سرکاری اجازت دی گئی تھی۔

اس سماعت کے دوران کمیٹی کے چیئرمین نے اعلان کیا کہ بدسلوکیوں کا ایک اور وڈیو ٹیپ ملا ہے ۔

اس سے قبل ایک کورٹ مارشل میں پہلے امریکی ریزرو فوجی کو بد سلوکیوں کے جرم میں ایک سال قید کی پوری سزا سنائی گئی۔

جنرل ابی زید نے کہا کہ امریکی فوج عراق اور افغانستان میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے پچھہتر واقعات کی تحقیقات کی گئیں ہیں جن میں چند قتل بھی شامل ہیں۔

کمیٹی کے سامنے جنرل ملر نے یہ بات تسلیم کی کہ گوانتانامو میں بھی بدسلوکی کے اکا دکا واقعات ہوئے ہیں۔ جنرل ملر گوانتانامو میں کمانڈر رہے ہیں۔ ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ سرکاری طور پر قیدیوں کے ساتھ کسی قسم کی بد سلوکی کی کوئی اجازت نہیں تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد