’بد سلوکی منصوبے کے تحت نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی کمانڈروں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کے چارج میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکیوں کا کوئی سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ واشنگٹن میں سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے سامنے پیشی کے وقت کمانڈر جان ایبی زید نے کہا کہ بد سلوکیوں کی وارداتیں ضرور ہوئی ہیں اور یہ وارداتیں نہ صرف عراق میں بلکہ افغانستان اور گوانتا نامو میں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن سارے کمانڈروں نے اس بات کی تردید کی کہ ان بدسلوکیوں کی سرکاری اجازت دی گئی تھی۔ اس سماعت کے دوران کمیٹی کے چیئرمین نے اعلان کیا کہ بدسلوکیوں کا ایک اور وڈیو ٹیپ ملا ہے ۔ اس سے قبل ایک کورٹ مارشل میں پہلے امریکی ریزرو فوجی کو بد سلوکیوں کے جرم میں ایک سال قید کی پوری سزا سنائی گئی۔ جنرل ابی زید نے کہا کہ امریکی فوج عراق اور افغانستان میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے پچھہتر واقعات کی تحقیقات کی گئیں ہیں جن میں چند قتل بھی شامل ہیں۔ کمیٹی کے سامنے جنرل ملر نے یہ بات تسلیم کی کہ گوانتانامو میں بھی بدسلوکی کے اکا دکا واقعات ہوئے ہیں۔ جنرل ملر گوانتانامو میں کمانڈر رہے ہیں۔ ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ سرکاری طور پر قیدیوں کے ساتھ کسی قسم کی بد سلوکی کی کوئی اجازت نہیں تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||