’ابو غریب کی جیل بند نہیں ہوگی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی جیلوں کے کمانڈر جنرل جیفری ملر نے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کریں گے کے مستقبل میں عراق قیدیوں سے بدسلوکی نہ کی جائے۔ امریکی جنرل نے کہا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے عمل سے یہ بات ثابت کریں کے قیدیوں سے احترا م سے پیش آنے کےبین الاقومی ضابطوں کی پاسداری کرتے ہیں۔ جنرل ملر نے کہا کہ بغداد کے قریب واقع ابو غریب کی جیل جہاں قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات پیش آئے تھے بند نہیں کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے قیدیوں کی تعداد میں واضح کمی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ابو غریب کی جیل میں اس وقت چار ہزار کے قریب عراقی بند ہیں۔ عراقی جیلوں کا انتظام سنبھالنے سے پہلے جنرل ملر خلیج گوانتانامو میں قائم کیمپ ایکسرے کے منتظم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں عراق میں جنرل جینس کارپنسکی کے متبادل کے طور پر لایا گیا تھا۔ عراق جیلوں میں قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات مبینہ طور پر کارپنسکی کے دور میں پیش آئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||