امریکی فوجی کا اقبالی بیان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے چوبیس سالہ سپاہی جرمی سیوسٹ پہلے فوجی ہیں جن پر عراق کے ابو غریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی کا جرم ثابت ہوا ہے۔ بغداد میں اتحادی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں کورٹ مارشل کے دوران بیان میں انہوں نے کہا کہ انہیں انٹیلیجنس حکام کی طرف سے یہ حکم ملا تھا وہ قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں اس کو جاری رکھیں کیوں اس طرح قیدی اپنی زبان کھولنے پر تیار ہو رہے ہیں۔ سیوسٹ نے بتایا کہ جب وہ ایک قیدی کو ابو غریب جیل کے ایک حصے سے نکال کر اس حصے میں لائے جہاں باقی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا تو انہوں نے دیکھا کہ بہت سے قیدیوں کو زمین پر لٹایا ہوا تھا اور ان کے منہ پر غلاف چڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس قیدی کو وہ لائے انہوں نے اس کو بھی باقی قیدیوں کی طرف دھکیل دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دو امریکی فوجی قیدیوں کے ہاتھوں پر پاؤں کو بوٹوں تلے کچل رہے تھے جب کہ ایک فوج ان کی شناخت کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کارپورل گارنر عربی میں قیدیوں پر چیخ رہا تھا۔ ایک قیدی کے پاؤں پر زانی لکھ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کاپورل گارنر نے ایک قیدی کے سر پر مکا مارا تو میں نے کہا کہ تم نے تو اسے مار ہی ڈالا ہے۔ گارنر نے گالی دیتے ہوئے کہا کہ اس کا ہاتھ ہی ٹوٹ گیا۔ سیوسٹ نے کہا کہ گارنر نے ایک اور قیدی کو پکڑا لیا اور جیب سے کیمرہ نکال کر کہا کہ میری تصویر کھنچو۔ گارنر خود قیدی کی طرف مکا تان کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے بعد قیدیوں سے بدسلوکی کی چند اور تصاویر لی گئیں۔ سیوسٹ نے کہا کہ فوجیوں نے قیدی کو ننگا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سٹاف سارجنٹ ایون فریڈرک اس قیدی کےپاس گئے جس کو وہ لائے تھے اور اس کے سینے پر ایک زور دار مکا مار۔ مکا لگنے سے قیدی فرش پر گر پڑا اور فریڈرک نے کہا کہ اس کے مکے سے شائد اس پر دل کا دورہ پڑ گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||