’ زیادتیاں ایک نظام کا حصہ ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے کہا ہے کہ بغداد کی جیل ابو غریب میں قیدیوں سے بدسلوکی کوئی تنہا واقع نہیں بلکہ قیدیوں کے ساتھ زیادتیاں منظم طور پر کی جاتی ہے اور یہ ایک نظام کا حصہ ہیں۔ ابو غریب کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنظیم نے کہا کہ یہ کوئی فرد واحد کا عمل یا تنہا واقع نہیں بلکہ ایذا رسانی کے نظام کا حصہ ہے۔ جینیوا میں تنظیم کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ امریکی حکام کو اس طرح کے واقعات کے بارے میں ایک سال سے خبردار کر رہے تھے۔
بین الاقومی ریڈ کراس عام طور پر قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک اور دیگر حساس معملات پر پریس کانفرنس نہیں کرتی۔ اس پریس کانفرنس میں ترجمان آئی سی آر سی نے ایک خفیہ رپورٹ کے بارے میں جوابات دیے جس کے کچھ حصہ امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ میں شائع کئے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ عراقی قیدیوں کو برہنہ حالت میں اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مذید کہا گیا کہ قیدیوں کے سر پر لیڈیز انڈرویر چڑھا دیے جاتے ہیں۔ اس میں ایسے واقعات کا ذکر بھی کیا گیا جس میں جیلوں میں واچ ٹاورز پر تعینات فوجی قیدیوں کو گولیاں کا نشانہ بناتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ آئی سی آر سی کےمندوبین نے برطانوی فوج کی نگرانی میں عراق میں قائم جیلوں میں بھی قیدیوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ تنظیم ابھی بدسلوکی کے واقعات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کر رہی جو اس سے زیادہ سنگین ہیں۔ برطانیہ میں ایک روزنامے ڈیلی مرر نے عراقی قیدیوں کے ساتھ برطانوی فوجیوں کی بدسلوکی کی تصاویر شائع کی تھیں۔ ڈیلی مرر نے کہا کہ ایک چوتھے فوجی نے عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کے الزامات کی تصدیق کی ہے۔ اسی دوران انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی امریکی صدر کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں ان واقعات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط میں ان واقعات میں ملوث فوجیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اس نے ایک سال قبل واشنگٹن کو ایک رپورٹ بھیجی تھی جس میں عراقی قیدیوں پر تشدد کے واقعات کا ذکر کیا گیا تھا۔ ایمنسٹی نے کہا لیکن واشنگٹن نے اس رپورٹ کا کوئی جواب نہیں دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||