تحقیقات کر رہے ہیں: برطانیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ برطانوی فوج کی طرف سے عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کے تازہ شواہد کے سامنے آنے کے بعد ان واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ برطانوی فوج کی طرف سے عراقی قدیوں سے مبینہ بدسلوکی کرنے کی تصاویر برطانوی اخبار ڈیلی مرر میں شائع کی گئی تھیں۔ ان تصاویر پر بعض حلقوں کی طرف سے تنقید اور ان کی سچائی کے بارے میں شبہات ظاہر کیے گئے تھے۔ جمعرات کو اخبار نے تیسرے برطانوی فوجی کا انٹروویو شائع کیا جس میں اس فوج نے اس بات کا دعوی کیا کہ اس کے پاس عراقی قدیوں سے برطانوی فوجیوں کی بدسلوکی کی مذید تفصیلات موجود ہیں۔
اخبار میں دعوی کیا گیا کہ اس کے پاس عراقی قیدیوں سے ساتھ بدسلوکی کے مرتکب ہونے والے فوجیوں کے نام بھی موجود ہیں۔ ڈیلی مرر نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا کہ اخبار میں شائع کی گئی تصاویر کی سچائی ثابت کرنے سے زیادہ ضروری ان واقعات کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سامنے آنے والے تیسرے فوجی کے بارے میں کہا کہ وہ ملکہ کی لنکشائر رجمنٹ میں شامل نہیں تھا بلکے وہ اضافی فوجی دستوں میں شامل تھا اور رجمنٹ کے ساتھ عراق میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ گزشتہ ستمبر میں مبینہ طور پر برطانوی فوج نے عراق میں باہا موسی نامی ایک عراق کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ ڈیلی مرر کے مدیر نے کہا کہ تیسرے فوجی کی طرف سے فراہم کردہ کچھ تفصیلات کا لوگوں کو پہلے سے علم ہے اور وہ باہا موسی کی ہلاکت سے متعلق ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||