BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 May, 2004, 04:18 GMT 09:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تحقیقات کر رہے ہیں: برطانیہ
News image
برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ برطانوی فوج کی طرف سے عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کے تازہ شواہد کے سامنے آنے کے بعد ان واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

برطانوی فوج کی طرف سے عراقی قدیوں سے مبینہ بدسلوکی کرنے کی تصاویر برطانوی اخبار ڈیلی مرر میں شائع کی گئی تھیں۔ ان تصاویر پر بعض حلقوں کی طرف سے تنقید اور ان کی سچائی کے بارے میں شبہات ظاہر کیے گئے تھے۔

جمعرات کو اخبار نے تیسرے برطانوی فوجی کا انٹروویو شائع کیا جس میں اس فوج نے اس بات کا دعوی کیا کہ اس کے پاس عراقی قدیوں سے برطانوی فوجیوں کی بدسلوکی کی مذید تفصیلات موجود ہیں۔

News image

اخبار میں دعوی کیا گیا کہ اس کے پاس عراقی قیدیوں سے ساتھ بدسلوکی کے مرتکب ہونے والے فوجیوں کے نام بھی موجود ہیں۔

ڈیلی مرر نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا کہ اخبار میں شائع کی گئی تصاویر کی سچائی ثابت کرنے سے زیادہ ضروری ان واقعات کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سامنے آنے والے تیسرے فوجی کے بارے میں کہا کہ وہ ملکہ کی لنکشائر رجمنٹ میں شامل نہیں تھا بلکے وہ اضافی فوجی دستوں میں شامل تھا اور رجمنٹ کے ساتھ عراق میں خدمات انجام دے رہا تھا۔

گزشتہ ستمبر میں مبینہ طور پر برطانوی فوج نے عراق میں باہا موسی نامی ایک عراق کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

ڈیلی مرر کے مدیر نے کہا کہ تیسرے فوجی کی طرف سے فراہم کردہ کچھ تفصیلات کا لوگوں کو پہلے سے علم ہے اور وہ باہا موسی کی ہلاکت سے متعلق ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد