رمزفیلڈ کمیٹی کے سامنے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عراقی قیدیوں پر تشدد کے سلسلے میں امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ جمعہ کے روز سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انہوں نے اس معاملہ پر وزیر دفاع کو سرزنش کی ہے کہ رمزفیلڈ نے انہیں قیدیوں سے ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں پہلے کیوں نہیں بتایا۔ صدر بش نے وزیر دفاع کے استعفٰی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اچھے وزیر ہیں اور ان کی کابینہ کا حصّہ رہیں گے۔ اس سے قبل جمعرات کو عراقی قیدیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کے ہاتھوں زیادتی کی مزید تصاویر شائع ہونے کے بعد امریکہ کے صدر بش نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ وہ معذرت خواہ ہیں۔ ’ان قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کو پہنچنے والی تکلیف پر میں معذرت خواہ ہوں۔‘ وائٹ ہاؤس میں اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر بش نے ایک بار پھر اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تصاویر پوری امریکی قوم کی عزت پر دھبہ ہیں۔ ’یہ تصاویر اتنی بری ہیں کہ ان کو دیکھ کر مجھے متلی ہوتی ہے۔ کوئی بھی امریکی ایسے کسی فعل کو پسند نہیں کرے گا۔‘ ایک سوال کے جواب میں کہ واقعہ پچھلے سال جنوری میں ہوا تو اس کی تحقیقات شروع کئے جانے میں اتنا وقت کیوں لگ گیا، صدر بش نے کہا کہ مجھے اس معاملے کی تفصیلات پہلے ہی بتا دی جانی چاہیئے تھیں اور یہی بات میں نے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ سے کہی ہے۔ صدر بش نے کہا کہ وہ اس واقعہ کی گہرائی میں تحقیقات چاہتے ہیں اور یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آیا اس مسئلے کی جڑیں دور تک تو نہیں پھیلی ہوئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||