’گھنٹوں ظلم ہوا‘ عراقی قیدی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدر صبر عبد نے نیو یارک ٹائمز کو اپنی روداد سناتےہوئے کہا کہ اس پر جو بیتی ہے وہ اتنی تکلیف دہ ہے کہ وہ اب شاید پلٹ کر اپنے گھر بھی نہ جا سکے۔بلکہ شاید وہ اب عراق میں ہی نہ رہنا چاہے۔ لیکن اب امریکی فوج کے مبینہ طور پر کئے گئے اس بہیمانہ سلوک کی تصویریں شائع ہو چکی ہیں اور منگل کو جب یہ تصاویر ایک بار پھر حیدر نے دیکھیں تو اس میں مسکراتے ہوئے تین امریکی فوجیوں میں سے ایک کو پہچانتے ہوئے حیدر صبر نے کہ ’ یہ تو جائنر ہے‘۔ حیدر کے پہچانے گئے اس امریکی فوجی نے برہنہ عراقی قیدیوں کے منہ ڈھانپ رکھے تھےاور انہیں ایک دوسرے پر لیٹنے پر مجبور کیا ہوا تھا۔ اسی تصویر کو مزید غور سے دیکھتے ہوئے حیدر صبر نے ایک خاتون فوجی کو پہچانا اور کہا کہ ’یہ مس مایا ہے۔‘ اسی نوعیت کی تصاویر میں سے ایک میں حیدر نے خود کو بھی پہچان لیا۔
چونتیس سالہ حیدر صبر عبد ان قیدیوں میں سے ایک ہے جسے ابو غریب کی جیل میں امریکی فوجیوں نے تقریبا دو گھنٹوں تک اپنی بد سلوکی کا نشانہ بنایا تھا۔ حیدر کا کہنا ہے کہ اس دوران نہ تو کبھی اس سے تفتیش کی گئی اور نہ ہی اس پر کوئی الزام عائد کیا گیا۔ جب ابو غریب کی جیل کے حکام سے اس معلومات پر بات نوعیت کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کسی بھی قسم کا بیان دینے سے گریز کیا۔ بقول حیدر ’ سچ تو یہ ہے کہ ہم نہ تو دہشت گرد ہیں اور نہ ہی حملہ آور۔ ہم تو بس عام لوگ ہیں اور یہ بات امریکی تفتیش کاروں کو پتہ تھی۔‘ حیدر نے چھ ماہ ابو غریب کی جیل میں گزارے لیکن امریکی فوج کے خلاف اسکے لہجے میں غصہ نہیں تھا۔ اسکے بقول ’ بیشتر اوقات انہوں نے ہم سے کوئی بد تمیزی نہیں کی۔ لیکن نہ جانے نومبر سے انہیں کیا ہوا وہ یکسر بدل گئے اور اس طرح کی بد سلوکیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||