امریکی وزیر پر استعفٰی کے لیے دباؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی قیدیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کے ہاتھوں زیادتی کی نئی تصاویر شائع ہونے کے بعد وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیردفاع نے جس طرح اس سارے معاملے کو نبٹایا ہے اس سے صدر بش خاصے ناخوش ہیں۔ تازہ ترین شائع ہونے والی تصاویر میں ایک ایسے برہنہ قیدی کو دکھایا گیا ہے جسے ایک خاتون ایک پٹے سے گھسیٹ رہی ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے جسٹن ویب کے مطابق اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکی وزیر دفاع کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا جائے۔ ڈونلڈ رمزفیلد کو جمعہ کو امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف بیان کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ شائع ہونے والی تازہ ترین کچھ تصاویر جعلی ہوں لیکن رپورٹر کرسچن ڈیونپورٹ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں یہ تصاویر اصل ہیں۔ ڈیونپورٹ کے مطابق یہ تصاویر سن دو ہزار تین کے وسط میں اتاری گئی تھیں اور ان کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں عراق میں امریکیوں فوجیوں کی زندگی کے بارے میں بھی کچھ تصاویر شامل ہیں۔ دریں اثناء بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ کئی بار امریکہ سے بغداد جیل میں ’اصلاحی اقدامات‘ کرنے کے لئے کہہ چکی ہے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی جو عراق میں جیلوں کا دورہ کرتی رہتی ہے نے اس سے قبل ان کی صورتحال پر کھلے عام تبصرے سے انکار کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||