’ہم احکامات کی تعمیل کر رہے تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سینئر سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ عراق میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے مقدمے کی سماعت کھلے عام کی جانی چاہئے ۔ مشتعل سنیٹروں نے کہا کہ انہیں اندھیرے میں رکھا گیا ہے اور وہ مختلف الزامات کے سلسلے میں وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ سے سوالات کرنا چاہتے ہیں ۔ قیدیوں کے ساتھ برے سلوک کے چھ مختلف الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہے جس کی پنٹاگن نے تصدیق کی ہے ۔ عراقی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی تصاویر امریکی ٹیلی وثرن پر دکھائے جانے کے بعد چھ امریکی فوجیوں کے خلاف فوجداری کے مقدمے دائر کئے گئے ہیں اور چھ سینئر افسران کو سزا دی گئی ہے ۔ لیکن اس بارے میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے کہ قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی زیادہ عام ہے ۔اور اس لئے بھی زیادہ غصہ پایا جاتا ہے کہ پنٹا گن نے اس بارے میں سیاسی رہنماؤں اور عوام کو مطلع نہیں کیا ۔ فوجی سربراہ کو سینیٹ کی مسلح سروس کمیٹی کی ہنگامی میٹنگ میں طلب کیا گیا اور وہاں انہوں نے بغداد کے باہر ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی سے متعلق تحقیقات میں پیش رفت کے بارے میں بتایا ۔ لیکن سینٹر اس بات پر ناراض تھے کہ بند کمرے میں ہونے والی اس ملاقات کے بارے میں فوج کو جو علم تھا اس کی تفصیلات کانگریس سے پہلے میڈیا کو دے دی گئیں۔ کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ کارل لیون نے اس معاملےکے بارے میں فوری طور پر رپورٹ نہ کرنے پر پنٹاگن کی سرزنش کی۔ سینیٹر ایڈورڈ کینڈی نے بتایا کہ کمیٹی کو صرف ابوغریب جیل میں بدسلوکی کے بارے ہی میں نہیں بلکہ عراق اور افغانستان میں بھی قیدیوں کے ساتھ ایسے واقعات کے بارے میں بتایا گیا۔ اس واقعہ میں ملوث ایک فوجی کے وکیل نے کہا کہ اس حالت میں ان قیدیوں کی تصاویر لینے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ ان قیدیوں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کا ایک حصہ تھا جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی تھی۔ چارلس گارنر جونیئر کے وکیل نے این بی سی ٹی وی کو بتایا کہ یہ سب کچھ فوجی انٹیلی جنس کمیونٹی اور دیگر سرکاری ایجنسیاں کنٹرول کر رہی تھیں جن میں سی آئی اے بھی شامل ہے انہوں نے کہا کہ فوجی صرف حکم کی تعمیل کر رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||