قیدیوں پر تشدد: جنرل کی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی جیل میں تشدد کی ذمہ دار امریکی جنرل نے کہا کہ انہیں تصاویر دیکھ کر کراہت محسوس ہوئی۔ برگیڈیئر جنرل جینیس کارپنسکی کو دیکر کئی فوجیوں سمیت قیدیوں پر تشدد کی کارروائیوں کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات کے مکمل ہونے تک اپنے عہدوں سے معطل کر دیا گیا ہے۔ جنرل جینس نے نیویارک ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس میں نشر ہونے تصاویر ہائی سکیورٹی سیل میں بند جنگی قیدیوں کی ہیں جن کا مکمل کنٹرول ملٹری انٹیلی جنس افسروں کے پاس تھا۔ ’وہ چوبیس گھنٹے اس سیل کے گرد منڈلاتے رہتے تھے۔‘ ابو غریب جیل میں بند جنگی قیدیوں پر تشدد کرنے اور ان کی تصاویر لینے کے ذمہ دار سپاہیوں کو کورٹ مارشل اور جیل کی سزا کا سامنا ہے۔ جنرل کارپنسکی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ فوجی کمانڈر انٹیلی جنس افسروں کو بچانے کے لئے ساری ذمہ داری ان کی یونٹ پر ڈال رہے ہیں۔ ’ہم تو ریزرو فوجی ہیں، ہم پر الزام لگانا آسان ہے۔ وہ حاضر سروس فوجیوں پر کیوں ذمہ داری ڈالیں گے؟‘ انہوں نے کہا کہ وہ تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ریزرو فوجیوں کا دفاع نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی اے کے ملازمین بھی جیل میں آکر قیدیوں سے پوچھ گچھ کرتے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||