| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہانی گوانتاناموبے کی
اس وقت دنیا کا سب سے متنازعہ قیدخانہ گوانتناموبے کیوبا ہے جہاں کئی ممالک کے باشندے جن میں بڑی تعداد میں پاکستانی شامل ہیں اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اب تک تقریبا پندرہ خوش قسمت پاکستانی قیدی رہائی پاکر واپس وطن پہنچے ہیں۔ لیکن ان لوٹنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کے سب الجھنیں دور ہوگئی ہیں بلکہ وہ شدید معاشی، سماجی اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں۔ دنیا میں اس وقت اگرصرف ساڑھے چھ سو سے زائد قیدیوں اور حالات کی وجہ سے کوئی قیدخانہ مسلسل زیر بحث ہے تو وہ ہے گوانتناموبے کیوبا کا کیمپ ایکسرے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں وہاں کے حالات کی وجہ سے امریکی حکومت پر تنقید تو کر رہی ہیں لیکن جو واپس آچکے ان پر اب کیا بیت رہی ہے؟ وہ کس حالت میں ہیں؟ اور ان کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ یہ جاننے کی کوشش شاید ہی کسی نے کی ہو۔ گوانتاناموبے میں پاکستانیوں کی درست تعداد واضع نہیں لیکن اب تک تقریباً پندرہ قیدی بظاہر بےگناہی ثابت ہونے پر وطن واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ واپسی کے بعد سے ان کا حال اچھا نہیں۔ کیوبا سے واپس لوٹنے والے پہلے ترپن سالہ پا کستانی محمد صغیر ہیں۔ وہ گذشتہ برس اکتوبر میں تقریبا ایک سال تک کیمپ ایکسرے میں سختیاں جھیلنے کے بعد صوبہ سرحد کے دورافتادہ پہاڑی ضلع کوہستان لوٹے تھے ۔ اس دوران اس کا کہنا ہے کہ اس کا بال بال قرض دار ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا’میرے بےروزگار بیٹے گھر کا خرچا چلانے کے لئے لوگوں سے قرض لیتے رہے جو اب میں ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہوں۔ میرا دوسرا بیٹا ذہنی مریض بن چکا ہے اور میرے پاس اس کا علاج کرانے کو ایک پائی نہیں۔ میری آرا مشین خراب پڑی ہے اور اگر چلاؤں تو لوگ اپنے پیسے مانگنے آجاتے ہیں کہ آپ کا کاروبار تو چل رہا ہے۔ میرا ایک بیٹا قرض داروں کی وجہ سے گھر نہیں آسکتا۔ بہت مسائل ہیں۔ انہی مسائل سے گھبرا کر صغیر نےگزشتہ دنوں امریکہ سے دس ملین ڈالر سے زائد کی رقم کے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس طرح وہ پہلے گوانتنامو بے کے قیدی ہیں جنہوں نے امریکہ کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ ان کی فریاد ضرور سنی جائے گی۔ رہائی پانے والوں میں مالاکنڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ڈیری اللہ ڈھنڈ کے پچیس سالہ شاہ محمد ہیں۔ انہیں معاشی کے ساتھ ساتھ ذہنی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ شاہ محمد کا کہنا ہے کہ رہائی کے چھ ماہ کے بعد بھی راتوں کو اسے قیدخانے کی یاد خوابوں میں تنگ کرتی ہے۔ ’یہ پچیس سالہ نوجوان گاؤں میں نانبائی تھا۔ ہمسایوں کا کہنا ہے کہ وہ اب ویسا نوجوان نہیں رہا جیسا کہ پہلے تھا۔ ’وہ اب بہت کم بولتا ہے۔ ہنستا بھی کم ہے اور کھویا کھویا رہنے لگا ہے‘۔ جیل میں قید کے دوران اس کا کہنا ہے کہ گھر کی فکر اور زندگی سے بےزاری نے اسے چار مرتبہ اپنی جان لینے پر مجبور کیا لیکن امریکیوں نے اسے بچا لیا۔ شاہ محمد کو رہائی پر ایک جینز پتلون، ایک شرٹ اور ٹشو پیپر جیسی چند اشیاء کے علاوہ امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے خط بھی موصول ہوا ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ امریکی مفادات کے لیے خطرہ نہیں۔ شاہ محمد اس خط کو اپنے مشکل وقت کی ایک نشانی کے طور پر ہر وقت جیب میں رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں شاہ محمد کی منگنی کردی گئی ہے اب اسے شادی کی فکر بھی لاحق ہوگئی ہے۔ مستقبل اس کا انتظار کر رہا ہے لیکن ذہنی مسائل اس کی راہ روک رہے ہیں۔ شاہ محمد کے ہی مالاکنڈ ڈویژن کے ایک اور شخص ٹیکسی ڈرائیور عبدالمولیٰ ہے۔ وہ دنیا سے اتنا تنگ ہے کے کسی سے اس مسلئے پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔ کئی کوششوں کے باوجود وہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرنے پر تیار نہ ہوا۔ اس کا موقف تھا کہ ان انٹرویوز کا کوئی فائدہ نہیں۔ عبدالمولٰی کی جھنجھلاہٹ بھی اس کی کیفیت کا اظہار کرتی ہے کہ ان واپس لوٹنے والوں کی الجھنیں ابھی دور نہیں ہوئیں بلکہ مزید بڑھی ہیں۔ کیوبا سے واپس لوٹنے والے گیارہ پاکستانیوں کی آخری کھیپ میں ملاکنڈ کے ہی ایک چھوٹے سے سرسبز پہاڑی گاؤں کوٹ کے تیس سالہ نوجوان عبدالرازق بھی شامل تھے۔ ان کی سوچ دیگر سابق قیدیوں سے مختلف ہے۔ زراعت میں ماسٹرز ڈگری رکھنے والے کمزور سے عبدالرازق کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ’میں پہلے بھی بے روزگار تھا اور اب بھی ہوں۔ بس اب میں دعوت دین کا کام مزید جوش اور جذبے سے کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور تمام عمر اسی مقصد کے لئے وقف کر رہا ہوں۔ گوانتناموبے، کیوبا سے لوٹنے والوں کے کچھ مسائل تو بظاہر وقتی ہیں اور رفتہ رفتہ شاید دور ہوجائیں لیکن کچھ اثرات ایسے ضرور ہیں جن سے انہیں چھٹکارا پانے میں تمام عمر مشکل پیش آسکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||