BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 May, 2004, 06:36 GMT 11:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساکھ کی بحالی کے لیے عربوں سے اپیل
بش
امریکی صدر بش آج عربی ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیں گے جس کا مقصد عراقی جنگی قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعے کے بعد امریکہ پر دنیا کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش ہے۔

کچھ روز قبل ہی بغداد کی ابو غریب جیل کی کچھ تصاویر جاری کی گئی تھیں جن میں وہاں قید عراقیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کو غیر انسانی سلوک کرتے دکھایا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکات میکلیلن نے کہا کہ صدر بش کہیں گے کہ عراقی جنگی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی نہایت شرمناک اور ناقابل قبول ہے۔


امریکی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ عراق اور افغانستان میں پچیس افراد دوران حراست ہلاک ہوچکے ہیں جن میں دو قتل بھی شامل ہیں۔

سکات میکلیلن نے کہا کہ صدر بش امریکی تعاون سے چلنے والے عربی ٹی وی چینل الہُرہ اور عرب نیٹ ورک العربیہ پر سوالات کے جواب دیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ صدر کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ عرب دنیا کے عوام سے براہ راست مخاطب ہوں اور انہیں بتائیں کہ جنگی قیدیوں کی جاری کی گئی تصاویر جو سب نے دیکھی ہیں، ان کے لیے شرمناک اور ناقابل قبول ہیں۔

’یہ تصاویر امریکہ کے امیج کی عکاسی نہیں کرتیں اور نہ ہی ہماری فوج کے اعٰلٰی معیار کو ظاہر کرتی ہیں۔‘

عربی چینلز پر صدر بش کا ظاہر ہونا جنگی قیدیوں کے سکینڈل سے امریکی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے مداوے کی ایک کوشش ہے۔

امریکی فوجیوں کے بیہمانہ سلوک کے افشا ہونے کے بعد عرب دنیا میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ پوری دنیا نے ان واقعات کی مذمت کی ہے۔

منگل کو امریکی وزیر دفاع ڈونالڈ رمز فیلڈ نے کہا تھا کہ اس قسم کا سلوک روا رکھنے والوں کو سزا دی جائے گی۔

پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ چھ امریکی فوجیوں کے خلاف الزام عائد کردیے گئے ہیں۔ تاہم تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ بدسلوکی کا دائرہ مزید وسیع ہے۔

امریکی فوج کے ایک اعلٰی اہلکار نے کہا ہے کہ دسمبر دو ہزار دو سے لے کر اب تکعراق اور افغانستان میں پچیس جنگی قیدیوں کے دوران حراست ہلاک ہونے اور 10 قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

پینٹاگون میں بی بی سے کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ پچیس ہلاکتوں میں سے بارہ کی وجہ قدرتی یا نامعلوم قرار دی گئی ہے، دو کو قتل اور ایک کو خودکشی قرار دیا گیا ہے جبکہ دس واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔

اس سکینڈل کو یہ معلوم ہوجانے کے بعد مزید ہوا ملی ہے کہ عراقی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے بارے میں رپورٹ اسی سال جنوری میں کمیشن کی گئی تھی اور یہ مارچ میں مکمل ہوئی لیکن رمز فیلڈ نے یہ رپورٹ گزشتہ روز یعنی منگل کو دیکھی ہے۔

امریکی سینیٹ کے آرمڈ سروسز کمیشن نے یہ جاننے کا مطالبہ کیا ہے کہ اس رپورٹ کے بارے میں انہیں کیوں اندھیرے میں رکھا گیا۔ کمیشن رمز فیلڈ کی جوابدہی پر بھی زور دے رہا ہے۔

دریں اثناء پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ایک برس کے دوران ایک لاکھ اڑتیس ہزار امریکی فوجی عراق میں تعینات رہیں گے۔ یہ تعداد پہلے تجویز کی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق کی صورتحال کو قابو کرنا امریکہ کے لیے خاصا مشکل ثابت ہورہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد