’عراقی قیدیوں پر ٹارچر ہوا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی قیدیوں پر امریکی فوج کے مظالم پر ریڈ کراس نے اپنی خفیہ رپورٹ امریکی میڈیا کو فراہم کی ہے۔ ریڈ کراس کی یہ خفیہ رپورٹ موجودہ سال کے اوائل میں بش انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی تھی۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ریڈ کراس کی لیک ہونے والی رپورٹ سے پتہ چلتاہے کہ عراقیوں پر مظالم بدستور جاری تھے اور کہیں کہیں تو یہ مظالم تشدد میں بدل گئے تھے۔ اخبار اس مبینہ رپورٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے یہ بھی لکھتا ہے کہ ابو غریب کی جیل میں قیدیوں کو نہ صرف برہنہ رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا بلکہ ان کو کسی قسم کی بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جاتی تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قیدیوں کو مارا پیٹا جاتا تھا اور ایک بار تویہ کارراوائی جان لیوا بھی ثابت ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ امریکی فوجی نہتے قیدیوں پر واچ ٹاور سے گولیاں بھی چلاتے تھے جو اکثر ان کی جان بھی لے لیتی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||