مارکیز کی کتاب پرایران میں پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں ایک نوبیل انعام یافتہ مصنف کی کتاب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جسے وہاں کے سینسر بورڈ نے پہلے پاس کر دیا تھا۔ اس ناول کو کولمبیا کے مصنف گابریئل گارسیا مارکیز نے تصنیف کیا ہے اور جس کا انگریزی زبان میں عنوان ہے ’میموریز آف مائی میلنکولی ہور‘ یعنی میری افسردہ طوائف کی یادیں۔ مگر ایران میں یہ فارسی زبان میں ’میموریز آف مائی سویٹ ہاٹ‘ یعنی میری افسردہ محبوبہ کی یادوں کے نام سے لوگوں کو دستیاب تھی۔ مگر اس سے پہلے کہ ایران کے حکام اس پر کوئی ردِعمل کرتے اس کی پانچ ہزار کاپیاں بک چکی تھیں۔ اس کتاب کا مضمون ایک ایسے عمر رسیدہ شخص کے کردار کے گرد گھومتا ہے جو چاہتا ہے کہ اپنی 90 ویں سالگرہ پر وہ کسی چودہ سالہ کنواری طوائف کے ساتھ رات گزارے، مگر وہ آخرِحال اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ خبررساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی ثقافت کے وزیر نے کہا ہے کہ یہ ایک’بیوروکریٹک غلطی‘ کی وجہ سے چھپ گئی اور اس کی وجہ سے ایک حکومتی اہلکار کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ تاہم ایران میں اس کتاب کی تمام کاپیاں تین ہفتہ کے اندر بک چکی تھیں۔ اس کتاب کی وجہ سے مذہبی قدامت پسند کافی ناراض ہیں جنہوں نے اس کے اصل عنوان اور مضمون کی طرف لوگوں کی توجہ کرائی اور جس کے بعد ایرانی حکومت کے ثقافتی اور اسلامی ادارے کی ہدایت کے مطابق اس کتاب کی مزید اشاعت پر پابندی لگا دی گی۔ ایران میں محمود احمدی نژاد کے سن دو ہزار پانچ میں صدر بننے کے بعد سے کتابیں سختی سے سینسر ہونے لگی ہیں۔ | اسی بارے میں ’سفارتی حل کے لیے کوشاں رہیں گے‘11 November, 2007 | آس پاس پاکستانیوں کا نیویارک میں مظاہرہ09 November, 2007 | پاکستان سندھ کے اچھے اور برے آڈوانی11 November, 2007 | قلم اور کالم ’اخلاقی برائیاں‘، ایرانی مہم13 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||