BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 November, 2007, 04:22 GMT 09:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانیوں کا نیویارک میں مظاہرہ

نیویارک میں پاکستانی
اقوامِ متحدہ کی عمارت کے سامنے پاکستانی بڑی تعداد میں جمع تھے
نیویارک میں رہنے والے پاکستانیوں نے پاکستان میں ہنگامی حالات کے نفاذ کیخلاف اقوام متحدہ کے سامنے زبردست مظاہرہ کیا ہے جس میں شرکت پاکستان کی بڑی اپوزیشن پارٹیوں اور گروپوں کی بھی تھی۔

جمعرات کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے سامنے مظاہرے میں پاکستانی حزب مخالف کی پارٹیوں کے امریکہ میں کارکنوں سمیت پاکستانی مردوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اقوام متحدہ کے صدر دفتر کی عمارت کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا اہتمام خیبر سوسائٹی نے کیا تھا۔

’گو مشرف گو‘، ’امریکہ ڈکٹیٹر مشرف کی حمایت بند کرے‘، ’اقوام متحدہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں مدد کرے‘، اور ’رہا کرو، رہا کرو چیف جسٹس اور ججز رہا کرو، عدلیہ بحال کرو، پاکستان رہا کرو‘ کے نعرے وہاں موجود اور گزرنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

مظاہرین ایمرجنسی کے خاتمے اور جمہوریت اور میڈیا کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے

خیبر سوسائٹی، عوامی نیشنل پارٹی کے سرخپوش کارکنوں اور پاکستان پختون ملی عوامی اتحاد کے کارکنوں نے ’پچتونوں کا قتل عام پاکستان میں بند کرو‘ کے نعرے بھی لگائے۔

مظاہرے میں پاکستان مسلم لیگ نواز شریف کے کارکنوں کی اچھی خاصی تعداد تھی جن میں خواتین بھی شامل تھیں جنہوں نے رنگا رنگ احتجاجی نعروں کے کتبے اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے جنرل پرویز مشرف کے کارٹون اور مشرف سرکار کے ہاتھوں معزول اور نظر بند چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی تصاویر کے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔

مظاہرین سے پاکستان مسلم لیگ نواز شریف کے ڈاکٹر لقمان، خیبر سوسائٹی کے ڈاکٹر جمشید اور زمان آفریدی ، ایڈووکیٹس فار ہیومن رائٹس پاکستان کے رانا رمضان نے خطاب کیا۔ پاکستانیوں کے اس جمہوریت نواز اور مشرف مخالف مظاہرے میں مقامی امریکی تنظیموں کے کارکنوں نے بھی ،بقول انکے، پاکستانیوں سے یکجہتی کے طور پر شرکت کی جن میں انٹرنیشنل ایکشن سینٹر، اور ورلڈ ورکرز پارٹی کے کارکنان شامل ہیں۔ جبکہ پاکستان یو ایس اے فریڈم فورم کے شاہد کامریڈ بھی شریک تھے۔

سیعد شفقت اور کرن خالد
ایشیا سوسائٹی نے پاکستان میں بحران کے موضوع پر پروگرام منعقد کیا

مظاہرین نے پاکستان میں ایمرجنسی کے خاتمے، فوجی صدر جنرل مشرف کی اقتدار اور فوجی عہدے سے سبکدوشی، آئين اورعدلیہ کی بحالی کے مطالبات کے ساتھ اقوام متحدہ سے جمہوریت کی بحالی میں مدد کے مطالبات پر مبنی قرار دادیں بھی پیش کیں۔

امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے بعد سے نیویارک اور مختلف امریکی شہروں میں ہر روز مظاہرے اور مذاکرے جاری ہیں۔ صرف نیویارک شہر میں جمعرات کی صبح مشہور غیر سرکاری تنظیم ایشیا سوسائٹی میں پاکستان میں بحران کے موضوع پر ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پاکستان میں نظر بند ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چئر پرسن ‏عاصمہ جہانگير نے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ان کے علاوہ صحافی نجم سیٹھی، ایاز امیر، اور زاہد جمیل نے جبکہ نیویارک میں پروفیسر سعید شفقت، سینئر فیلو کاؤنسل آف انٹرنیشنل ریلیشرز ، انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے رابرٹ ٹیمپلر بھی شریک ہوئے۔

دریں اثناء واشنگٹن میں ورلڈ سندھی انسٹیٹیوٹ سمیت انسانی حقوق کے گروپ وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ ایک احتجابی مظاہرہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبہ اور طالبات بوسٹن میں منظم کر رہے ہیں۔

جمعہ کے روز نیویارک میں انسانی حقوق اور تنظیم انا کی سرگرم کارکن بازہ روحی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ وہ پاکستان میں ایمرجنسی کیخلاف پاکستانی قونصل خانے کے سامنے بھوک ہڑتال پر بیٹھنے جا رہی ہیں۔

 جنرل مشرف مشرف پھنس گئے
جنرل مشرف نے صدر مشرف پر الزام لگائے۔
فوجمغرب کی الجھن
مشرف کی ایمرجنسی، مغرب کی شرمندگی
محمود ارشد’دل ڈوب جاتا ہے‘
ایمرجنسی پر غیر اقامتی پاکستانیوں کا ردِ عمل
1999 بمقابلہ 2007
جنرل مشرف کا واحد راستہ، پاکستان کی امید
رپورٹروں سےاپنے رپورٹروں سے
ایمرجنسی کا دوسرا دن، لمحہ بہ لمحہ صورتحال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد