ایمرجنسی کا نفاذ ، مغرب کی الجھن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ امریکہ اور برطانیہ کے لیے شرمندگی کا باعث بن گیا ہے۔امریکہ اور برطانیہ جنرل مشرف کو ماورائے آئین اقدام اٹھانے سے باز رہنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ دونوں ممالک نے پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ممالک کوانہی حالات سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان سمجھوتہ کرانے کی کوششوں کو سخت دھچکا لگا ہے اور شاید اب یہ کوششیں کامیاب ہی نہ ہو سکیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے لیے سب سے بڑی الجھن یہ ہے کہ وہ ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کرنے کے باوجود کس طرح جنرل مشرف کے ساتھ اسی طرح تعاون کرتے رہیں جس طرح وہ ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے کر رہے تھے۔ امریکہ اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے جنرل مشرف کے ایمرجنسی کے اقدم پر اپنے رد عمل میں یہ نہیں کہا کہ وہ ان کے ساتھ روابط ختم کر دیں گے بلکہ انہوں نے جنرل مشرف کو آئینی راستے پر واپس آنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کانڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ وہ فوراٌ آئینی راستے پر واپس آ جائے اور وقت پر انتخابات کی یقین دہانی کرائی جانی چاہیے۔ برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ پاکستان کی حکومت کو آئین کی پاسداری کرنی چاہیے اور وعدے کے مطابق انتخابات کا انعقاد کرنا چاہیے۔
امریکہ اور برطانیہ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جنرل مشرف کے تعاون کے خواہاں ہوں گے۔ مغربی ممالک پاکستانی فوج کی شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں پسپائی پر پریشان ہیں۔ حال میں جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج کے تین سو سپاہیوں نے قبائلی شدت پسندوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ لیکن ان سب حقائق کے باوجود امریکہ پاکستان کی فوج کو تنہا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اسی لیے اس نے ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کرنے کے ساتھ کہا ہے کہ پاکستانی فوج کو امداد جاری رہے گی۔ پینٹاگان کے پریس سیکرٹری نے پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان فوجی تعاون پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ | اسی بارے میں وکلاء کےگھروں پر چھاپے، کئی گرفتار04 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی پر ڈھکی چھپی تنقید04 November, 2007 | پاکستان ججوں کی بڑی تعدادنےحلف نہیں اٹھایا03 November, 2007 | پاکستان پِیر سے نئی تحریک: سپریم کورٹ بار04 November, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ: کیسز کی سماعت ملتوی04 November, 2007 | پاکستان ’انتخابی شیڈول بدل سکتا ہے‘04 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||