BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پِیر سے نئی تحریک: سپریم کورٹ بار

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار
’وکلاء برادری ملک بھر میں احتجاج کرے گی‘
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قیادت نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے اور وکلاء برادری سے اپیل کی ہے کہ ان ججوں کی عدالت میں پیش نہ ہوں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے۔

اتوار کو لاہور پریس کلب میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر غلام نبی بھٹی اور سیکرٹری امین جاوید نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ مارشل لاء لگایا گیا ہے۔ ان کا کہنا کہ آئین کے تحت صرف صدر ہی ایمرجنسی لگاسکتے ہیں لیکن ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان آرمی چیف نے کیا ہے اور ان کایہ اقدام غیر آئینی ہے۔ ان کے بقول تین نومبر کو شب خون مارا گیا ہے۔

علاوہ ازیں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے پی سی او کے نام پر اعلیٰ عدلیہ پر جو حملہ کیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ ان کے بقول سوموار سے ملک بھر کے وکلاء نئی تحریک کا آغاز کریں گے اور عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائےگا۔

غلام نبی بھٹی نے ججوں کی طرف سے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے اقدام پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانا غیر آئینی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ غیر آئینی حلف اٹھانے والے ججوں نے سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بنچ کی جانب سے ایمرجنسی کو معطل کرنے کے فیصلے کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے بقول ایک طرف آٹھ جج ہیں اور دوسری جانب چار جج ہیں اور قانون کی روح سے آٹھ ججوں کا فیصلہ لاگو ہوگا اور اس کو تین یا چار جج ختم نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ایمرجنسی کو معطل کرنے کا فیصلہ ابھی تک برقرار ہے۔ ان کے بقول ہنگامی حالت کے خاتمے تک پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔

پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری امین جاوید نے کہا کہ پاکستان عدالتوں اور میڈیا پر مارشل لاء لگایا گیا ہے اور ججوں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔انہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں سے کہا کہ وہ عدالتی کام انجام نہ دیں اور ان ججوں کا ساتھ دیں جہنوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا۔

ایک سوال کے جواب میں سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کو ان کے عہدے سے ہٹایا نہیں جاسکتا اور جسٹس افتخار محمد چودھری تاحال چیف جسٹس پاکستان ہیں۔

ان کا کہنا ہے ججوں کو حراست میں رکھا گیا ہے جبکہ وکلاء کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ان کے بقول جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے گھر کے باہر رینجرز تعینات ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں نے ججوں کی حراست کو ختم کرنے، وکلاء کی رہائی اور ہنگامی حالت کے اعلان کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

دریں اثناء پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین طارق جاوید وڑائچ نے اخبار نویسوں سے بات چیت میں کہا کہ حقیقی ججوں کو نظر بند کیا ہوا ہے اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا کوئی بھی فیصلہ غیر آئینی ہوگا۔
انہوں نے وکلاء کی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پانچ نومبر کو وکلاء برادری مکمل ہڑتال کرے گی۔

اسی بارے میں
’نظریں عدالت کے فیصلے پر‘
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد