BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 November, 2007, 08:53 GMT 13:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نظریں عدالت کے فیصلے پر‘

صدر مشرف (فائل فوٹو)
ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی باتیں تواتر کے ساتھ ہو رہی ہیں
پاکستان میں گزشتہ چند روز سے ایمرجنسی یا مارشل لاء کے نفاذ کی باتیں تواتر کے ساتھ ہو رہی ہیں اور سنیچر تک ان افواہوں میں مزید تیزی دیکھنے کو ملی ہے اور بیشتر ذرائع ابلاغ میں یہ گرما گرم موضوع بنا ہوا ہے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومتی حلقے خود یہ تاثر پھیلا رہے ہیں کہ اگر جنرل پرویزمشرف کے صدارتی انتخاب کو سپریم کورٹ نے خلاف آئین قرار دیا تو حکومت موجودہ نظام کی بساط لپیٹ دے گی۔

ان افواہوں کی گونج جہاں ملک کے گلی محلوں میں سنائی دے رہی ہے اور موضوع بحث بنا ہوا ہے وہاں سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل ملک قیوم کے دلائل اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران جنرل پرویز مشرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ کے واضح اشاروں کے بعد ایسا نظر آتا ہے کہ حکومت ’امن امان کی خرابی‘ کی بنیاد پر ایمرجنسی کے نفاذ میں خاصی سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔

پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات گمنام ذرائع کے حوالے سے کوئی کہہ رہا ہے کہ ایک نیا عبوری آئینی حکم آنے والا ہے جس کے تحت ججوں کو دوبارہ حلف اٹھانا ہوگا جبکہ کوئی کہتا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے صدر مشرف کے خلاف فیصلے کی صورت میں مارشل لاء یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے آپشنز کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے ساتھیوں سے مشاورت مکمل کرلی ہے۔

 ایمرجنسی کے نفاذ کے ایک ماہ کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری لینی ہوگی اور چھ ماہ بعد اس کی دوبارہ توثیق کرانی ہوگی۔ اس دوران ایک سال تک موجودہ اسمبلیوں کی مدت میں اضافہ بھی ممکن ہے
قانونی ماہرین

امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے مارشل لاء کی مخالفت کے بعد لگتا ہے کہ حکومت اب ایمرجنسی پر ہی اکتفا کرے گی کیونکہ اس کی آئین میں بھی گنجائش موجود ہے۔ آئین کے مطابق ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد بنیادی انسانی حقوق معطل کیے جاسکتے ہیں عدالت کے اختیارات پر قدغن لگائی جاسکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کے ایک ماہ کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری لینی ہوگی اور چھ ماہ بعد اس کی دوبارہ توثیق کرانی ہوگی۔ اس دوران ایک سال تک موجودہ اسمبلیوں کی مدت میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

اگر دیکھا جائے تو ماضی میں جب بھی حکومت نے کچھ بھی کرنا ہوتا ہے تو اس بارے میں شوشہ چھوڑ کر عملدرآمد سے پہلے ممکنہ عوامی اور سیاسی رد عمل کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

اس بار ایمرجنسی یا مارشل لاء کے نفاذ کی بحث کو بعض سیاسی مبصرین جہاں عدلیہ کو دھمکی کے مترادف قرار دے رہے ہیں تو کچھ کی رائے ہے کہ حکومت جنرل پرویز مشرف کی عدالت سے نااہلی کی صورت میں اپنے ممکنہ آپشنز کے بارے میں رائے عامہ بنانا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ نواز کے سرکردہ رہنما جاوید ہاشمی سمیت حزب مخالف کے بعض سیاستدان ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات کے پیش نظر ایمرجنسی کے امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کمزور ہوگئے ہیں اور وہ ایسا نہیں کرسکتے۔

جبکہ معروف ماہر قانون اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے نو منتخب صدر اعتزاز احسن مارشل لاء اور ایمرجنسی کے امکان کو رد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی فیصلے کے خلاف وہ وکلا سے مل کر تحریک چلائیں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جب ایک فوجی افسر وردی پہن کر گھر سے دفتر تک جانے کو تیار نہیں تو سینکڑوں مربع میل پر پھیلے پاکستان میں فوجی راج کیسے مسلط کرسکتے ہیں۔

بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)
کچھ وزیر کہتے رہے ہیں کہ بینظیر بھٹو صدر مشرف کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک ملک سے باہر رہیں گی

پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ صورتحال میں بھی حکمت عملی دیگر حزب مخالف کی جماعتوں سے کچھ مختلف ہی نظر آرہی ہے۔ ایک طرف پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد آج بینظیر بھٹو سے منسوب شائع شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے اپنی دبئی روانگی ملتوی کردی ہے لیکن وہ اُسی روز دبئی روانہ بھی ہوگئیں۔

کچھ وزیر بینظیر بھٹو کے بارے میں کہتے رہے ہیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی صدر کے انتخاب کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک وہ ملک سے باہر رہیں گی۔ لیکن بینظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ وہ بیمار والدہ کو دیکھنے اور بچوں سے ملنے دبئی گئی ہیں اور پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت وہ نو نومبر کو روالپنڈی میں جلسہ عام سے خطاب کے لیے واپس وطن آجائیں گی۔

بینظر بھٹو کے ایمرجنسی کے خدشات کے پیش نظر دبئی روانگی ملتوی کرنے کے بیان کو کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ حکومت کی جانب سے عدلیہ پر دباؤ کی مہم کا حصہ ہے۔ کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ بینظیر نے یہ بیان دے کر حکومتی پلڑا بھاری کرنے کی کوشش کی ہے۔

پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے بیانات اور ان سے بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے نتیجہ اخذ کرنے کی باتیں اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھیوں سے قومی مفاہمت کے بعد مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے بارے میں جو بات چیت کرتے رہے ہیں اس میں ایک آپشن یہ بھی زیر بحث رہا ہے کہ اگر جمہوریت کی طرف ٹرانزیشن کے عمل میں اگر کہیں عدالت روڑا اٹکائے تو ایمرجنسی نافذ کرکے موجودہ اسمبلیوں کی مدت کو ایک سال بڑھادیا جائے اور اس صورت میں پیپلز پارٹی کو بھی اقتداری کیک کا ایک بڑا حصہ پیش کیا جائے گا۔

News image
 پاکستان میں ایمرجنسی یا مارشل لاء کے نفاذ کے بارے میں چھڑنے والی بحث کی لپیٹ سے مواصلاتی نظام سے کٹے شورش زدہ قبائلی علاقہ جات میں حکومتی فورسز سے برسر پیکار شدت پسند بھی نہیں بچ پائے

پاکستان کی کچھ بڑی سیاسی جماعتوں اور بعض قانونی ماہرین کی جانب سے مارشل لاء یا ایمرجنسی نہ لگنے کی خوش فہمیاں اور اندازے اپنی جگہ لیکن جو لوگ صدر جنرل پرویز مشرف کو قریب سے جانتے ہیں ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ جنرل جو ضروری سمجھتا ہے وہ کرڈالتا ہے چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ اس طرح کی رائے رکھنے والے اپنی دلیل مضبوط ہونے کی گواہی کے طور پر چیف جسٹس کی معطلی کی مثال بھی دیتے ہیں۔

پاکستان میں ایمرجنسی یا مارشل لاء کے نفاذ کے بارے میں چھڑنے والی بحث کی لپیٹ سے مواصلاتی نظام سے کٹے شورش زدہ قبائلی علاقہ جات میں حکومتی فورسز سے برسر پیکار شدت پسند بھی نہیں بچ پائے۔

طالبان نواز شدت پسند رہنما بیت اللہ محسود کے ترجمان ذوالفقار محسود ایسی بحث پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر مارشل لاء لگتا ہے یا ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے تو اس سے جہاں پاکستان کو نقصان ہوگا وہاں اسلام کو بھی نقصان ہوگا اور اس کی ذمہ داری صدر جنرل پرویز مشرف پر عائد ہوگی۔

ملک میں جاری ایمرجنسی کے نفاذ کے خدشات سے جہاں سیاسی حلقوں میں ہلچل ہے وہاں سٹاک مارکیٹ بھی بحران کا شکار ہے اور تاحال اربوں روپے ڈوبنے کی خبریں آرہی ہیں۔ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خدشات سے سیاسی اور کاروباری حلقوں میں پائی جانے والی اضطرابی کیفیت اور مندے کے رجحان کا خاتمہ بظاہر عدالتی فیصلے سے ہی مشروط نظر آرہا ہے اور ایسے میں پاکستان کے سیاستدان ہوں یا عوام کراچی سے وزیرستان تک سب کی نظریں عدالت کی طرف لگی ہیں۔

صدر مشرف (فائل فوٹو)سیاست کی مشکل
’ایمرجنسی لگانےوالاجنرل ضروری نہیں مشرف ہو‘
افواہ اور حقیقت
ممکنہ ایمرجنسی کی خبریں سرخیوں میں
صدر پرویز مشرف (فائل فوٹو)ایمرجنسی، افواہیں
ایمرجنسی ہرگز نافذ نہیں کی جائے گی: مشرف
قومی اسمبلی (فائل فوٹو)اپوزیشن کا مطالبہ
’ایمرجنسی کی خبروں کی فوری وضاحت کی جائے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد