BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 August, 2007, 05:53 GMT 10:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدر سمجھتے ہیں ایمرجنسی کا جواز نہیں‘

صدر پرویز مشرف
حزب اختلاف کی جماعتیں صدر پرویز مشرف سے وردی چھوڑنے کا مطالبہ کررہی ہیں
ملک میں ایمرجنسی کی خبروں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے کہا ہے کہ صدر مشرف سمجھتے ہیں کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی نے ایک اعلی حکومتی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ صدر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے میں یقین رکھتے ہیں اور وہ ایسا کوئی اقدام کرنے کے خلاف ہیں جس سے یہ عمل متاثر ہو سکتا ہو۔‘

حکومتی اہلکار نے صدر کے حوالے سے کہا کہ ان حالات کی روشنی میں ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں ہے۔

درین اثنا وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بھی ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چند سیاسی قوتوں کی خواہش کے باوجود صدر مملکت نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ انکی صدر جنرل پرویز مشرف سے جمعرات کی صبح بات ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں ہے اور وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جو انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنے۔

محمد علی درانی نے کہا کہ حزب اختلاف کے راہناؤں کے ملک میں امن و امان کی صورتحال اور حکومت کی کارکردگی کے بارے میں سخت بیانات کے بعد کچھ سیاسی قوتوں نے صدر سے ملک میں ایمرجنسی لگانے کے لئے کہا تھا لیکن صدر نے ان پر واضح کر دیا ہے کہ وہ شفاف انتخابات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور اسکی راہ میں رکوٹ بننے والی کوئی اقدام نہیں کریں گے۔

یوں ایمرجنسی کے حوالے سےگزشتہ چوبیس گھنٹوں سےگردش کرنے والی خبروں کی حکومتی اہلکاروں نے تردید شروع کر دی ہے۔

ایوان صدر کی طرف سے اس ضمن میں اب تک مکمل خاموشی ہے اور ان خبروں کی تردید اور تصدیق کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ صدر کے ترجمان راشد قریشی سے بی بی سی اسلام آباد بیورو نے رابطہ کرنے کی متعدد کوششیں کیں لیکن یہ کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو سکیں۔

اس پس منظر میں ایوان صدر میں اعلٰی سطحی اجلاس کے منعقد ہونے کی خبریں بھی آ رہی تھیں۔ لیکن ایوان صدر کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو اس حوالے سے بھی کوئی بات نہیں بتائی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ کے اکثر اراکین ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ چند ایک ان کی تردید کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے اطلاعات محمد علی درانی نے ایک انٹرویو میں ایمرجنسی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر جنرل مشرف سے ان کی جمعرات کی صبح بات ہوئی ہے جس میں صدر نے کہا کہ وہ ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائیں گے جو انتخابات پر اثر انداز ہو۔

تاہم وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات طارق عظیم نے کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو اس حوالے سے پاکستانی ذرائع ابلاغ نے افواہوں کو کچھ زیادہ ہی اچھالا۔

جمعرات کو دوپہر ایک بجکر پچیس منٹ پر جب وزیرِ مملکت طارق عظیم سے پوچھا گیا کہ کیا صدر جنرل پرویز مشرف آج ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے کسی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں تو انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں اس قسم کے کسی اجلاس کی اطلاع نہیں۔ ’بہتر ہو گا کہ ایوانِ صدر سے معلومات کی جائیں۔‘

اسی حوالے سے جب جنرل پرویز مشرف کے ترجمان میجر جنرل (ریٹائرڈ) راشد قریشی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ ٹیلی فون پر دستیاب نہیں تھے۔

ایمرجنسی کی صورت میں ملک میں ناصرف عدالتوں کا کردار محدود ہو جائے گا بلکہ شہری آزادی اور آزادئِ اظہار بھی متاثر ہوں گے۔

اطلاعات کے مطابق ایمرجنسی کی افواہوں کے بعد امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کونڈولیزا رائس نے جمعرات کی صبح صدر جنرل پرویز مشرف سے فون پر دیر تک بات کی ہے۔

ملک میں ہنگامی حالت نافذ کیے جانے کی افواہیں صدر جنرل مشرف کی طرف سے کابل میں ہونے والے امن جرگے میں آخری وقت پر شرکت نہ کرنے کے اعلان کے بعد سے گردش کر رہی ہیں۔ صدر مشرف کی جگہ اب وزیرِاعظم شوکت عزیز کابل کے امن جرگے میں حصہ لے رہے ہیں۔

ان افواہوں نے اس وقت زور پکڑ لیا جب وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی طور پر لاحق خطرات کے پیش نظر ایمرجنسی کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف حکومتی ریفرنس سے ان کی بحالی تک وکلاء کے ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد میں لال مسجد کے سانحے کے بعد ملک کے سیاسی اور سکیورٹی کے حالات کشیدگی اختیار کر گئے ہیں۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے خبر رساں ادارے اے پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’فی الوقت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایمرجنسی کب لگ لگے گی۔ آج، کل یا بعد میں۔ دیگر ممکنہ اقدامات کی طرح ایمرجنسی نافذ کرنے کے بارے میں بھی غور کیا جا رہا ہے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ یہ قدم نہ اٹھایا جائے‘۔

ایمرجنسی میں شہریوں کو زیرِ حراست رکھنے کے اختیارات بڑھ جائیں گے اور موجودہ اسمبلی بھی اپنی معیاد کو ایک سال تک بڑھا سکتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صدر مشرف ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے اپنے دوبارہ صدر منتخب ہونے کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف ایمرجنسی نافذ کر دیتے ہیں تو اس کے براہِ راست اثرات حال ہی میں خودمختاری کی راہ اختیار کرنے والی عدلیہ پر پڑے گا۔ ایمرجنسی سے صدر کو انتخابات ایک سال تک ملتوی کرنے کے اختیارات بھی مل جائیں گے اور وہ فوج کے سربراہ کا عہدہ برقرار رکھ سکیں گے۔

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پی پی پی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر مشرف ایسا کوئی قدم اٹھانے سے گریز کریں گے اور حکومت ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے اچھی طرح سوچے گی۔ کیونکہ ان کے بقول ایمرجنسی کی صورت میں ملک کے حالات پسماندہ ہو جائیں گے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ روز بھی جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ایمرجنسی کے نفاذ کے موضوع پر بات چیت ہوئی تاہم حکومتی سطح پر اس میٹنگ کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

صدر پرویز مشرف (فائل فوٹو)ایمرجنسی، افواہیں
ایمرجنسی ہرگز نافذ نہیں کی جائے گی: مشرف
پاکستان الیکشنانتخابی ٹکٹ
مسلم لیگ (ق) اور خفیہ ایجنسیوں کا تعلق ؟
جنرل مشرف بینظیر بھٹوابوظہبی ملاقات
جنرل مشرف سے ملاقات پر بینظیر کیا کہتی ہیں
صدر جنرل پرویز مشرف’با وردی انتخاب‘
وزیر قانون کے مطابق صدر با وردی رہیں گے
امریکہ کے بعد اِی یو
2007 انتخابات میں یورپی یونین کی دلچسپی
لال مسجد کا ’چھاپہ‘
’مسجد کے طلبہ نے چینیوں کو بہت مارا‘
ایک طالب علمٹانک: جہاد کی تعلیم؟
کیا ٹانک میں بچے اسکول چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل رہے ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد