BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 June, 2006, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف وردی میں منتخب ہونگے‘

صدر جنرل پرویز مشرف
بین الاقوامی تنقید اور حزب مخالف کے مطالبے کے باوجود صدر نے فوج کے سربراہ کا عہدہ نہیں چھوڑا ہے
پاکستان کے وفاقی وزیرِ قانون محمد وصی ظفر نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو فوجی وردی میں ہی آئندہ پانچ برسوں کے لیے صدر منتخب کیا جائے گا۔


منگل کو قومی اسمبلی کی لابی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سن دوہزار سات میں موجودہ اسمبلیاں ہی صدر جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ منتخب کریں گی۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آئین کی شق43 کے تحت صدر کا عہدہ رکھنے والا شخص کوئی دوسرا عہدہ نہیں رکھ سکتا لیکن اُسی آئین کی شق اکتالیس کی ذیلی شق سات بی آئین کی شق تتتالیس کو غیر موثر بنا دیتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنما مشاہد حسین نے وزیر قانون کی بات سے محض ایک روز قبل یعنی پیر کے روز ایک نجی ٹیلی وژن چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ موجودہ اسمبلیاں جنرل پرویز مشرف کو پانچ سال کی دوسری مدت کے لیے ستمبر سن دو ہزار سات میں صدر منتخب کر لیں گی۔

 جنرل مشرف نے اپریل 2002 میں ایک متنازعہ ریفرنڈم کے ذریعے اپنے آپ کو صدر منتخب کروا لیا تھا۔ اس ریفرنڈم میں جنرل مشرف کے علاوہ کوئی دوسرا امیدوار مد مقابل بھی نہیں تھا۔

جنرل مشرف نے اپریل 2002 میں ایک متنازعہ ریفرنڈم کے ذریعے اپنے آپ کو صدر منتخب کروا لیا تھا۔ اس ریفرنڈم میں جنرل مشرف کے علاوہ کوئی دوسرا امیدوار مد مقابل بھی نہیں تھا۔

صدر مشرف نے چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور وہ اپنے فوجی عہدے کی مدت میں بطور صدر خود ہی توسیع کرتے رہتے ہیں۔

جنرل مشرف نے حال ہی میں ایک پشتو ٹیوی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئین میں اس بات کی گنجائش ہے کہ موجودہ اسمبلیاں ان کو دوبارہ صدر منتخب کر سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے خود یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو موجودہ اسممبلیوں سے دوبارہ صدر منتخب کروائیں گے۔

لیکن حکمران مسلم لیگ کے سرکردہ رہنماؤں کے تواتر سے اس بارے میں آنے والے بیانات کے متعلق بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے حامی اس طرح کے بیانات دے کر ایک طرف رد عمل جاننا چاہتے ہیں اور دوسری جانب وہ ملک میں رائے عامہ بھی بنا رہے ہیں۔

پاکستان کی حزب مخالف کی جماعتیں جنرل مشرف کے زیر نگرانی ہونے والے انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کا پروگرام بنا رہی ہیں۔ لیکن تاحال اس بارے میں ان کا واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) نے حال ہی میں لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں جماعتیں مل کر ملک سے فوج کی حکمرانی کو ختم کرنے کی جہدوجہد کریں گی۔

موجودہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی معیاد نومبر 2007 میں ختم ہو جائے گی۔

مشرفمشرف کے جلسے
رابطہ مہم یا’جنرل‘ الیکشن کی تیاریاں؟
اسی بارے میں
صدر مشرف کے انٹرویو کی ویڈیو
04 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد