باوردی صدر ٹھیک ہے: سپریم کورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سپریم کورٹ نے ان تمام آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہےجن میں پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے آئینی درخواستوں پر اپنے مختصر فیصلے میں ان تمام پیٹیشنوں کو مسترد کر دیا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ مداخلت کرکے مستقبل میں فوج کی حکومت کا راستہ روکے اور حکومت کی طرف سے اعلی عدالتوں کے ججوں کی تقرری حکومت کی مداخلت کو غیر آئنیی قرار دے۔ سپریم کورٹ نے سن 2000 میں صدر جنرل مشرف کے فوجی اقتدار کو نظریہ ضرورت کی بنیاد پر جائز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تین سال کے اندر انتخاب کراکے اقتدار دوبارہ عوامی نمائندوں کو منتقل کریں۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی سربراہی چیف جٹس ناظم حیسن صدیقی کر رہے تھے۔ عدالت اپنا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرئے گی۔ پاکستان کے کچھ وکلاء نے جو ملک میں ہونے والے آئینی تبدیلیوں کو عدالتوں میں اکثر چیلنج کرنے کے لیے شہرت رکھتے ہیں، نے صدر مشرف کے دو عہدوں اور آئین میں سترہیویں ترمیم کو چیلنج کر رکھا تھا۔ آئینی درخواستیں اے کے ڈوگر ( پاکستان لائرز فورم) ، حبیب وہاب الخیری (الجہاد ٹرسٹ)، کیمونسٹ پارٹی کے لیڈر انجینئر جمیل، بیرسٹر ظفر اللہ (وطن پارٹی) اور مولوی اقبال حیدر کی طرف سے دائر کی گئی تھیں۔ عدالت نے حبیب وہاب الخیری نے ججوں کی عمر کے بارے آئینی درخواست جس میں اعلی عدالتوں کے ججوں کی عمر بڑھانے کے بارے میں درخواست تھی ، کو رد نہیں کیا ہے اور کہا کہ وہ اس کے سماعت بعد میں کرئے گا۔ پاکستان لائرز فورم کے وکیل اے کے ڈوگر کا موقف تھا کہ آئین میں سترہویں ترمیم کی وجہ سے وزیراعظم کے اختیارت سلب کر کے صدر کو تقویض کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے استدعا کی تھی کہ صدر جنرل مشرف کو حکم دے جائے کہ وہ افواج پاکستان کے سربراہان کی تعیناتی سمیت تمام اختیارات واپس وزیراعظم کو تفویض کر دیں۔ الجہاد ٹرسٹ کے سربراہ حبیب وہاب الخیری نے کہا کہ سترہویں ترمیم میں عدلیہ کے مخالف کئی چیزیں شامل کی گئی ہیں جن میں ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر زیادہ کرنے کے فیصلے کو واپس لینا بھی شامل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||