BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 March, 2005, 09:26 GMT 14:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سپریم کورٹ میں اپیل کروں گی‘

اعتزاز احسن
اعتزاز احسن سپریم کورٹ میں مختاراں مائی کی وکالت کریں گے۔
جرگے کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختاراں مائی نے ہفتے کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک مختصر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختاراں مائی نے کہا ہے کہ انھیں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے دھچکا پہنچا ہے اور اب ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ انھیں سپریم کورٹ سے انصاف ملنے کی بہت امیدیں ہیں اور اس کے علاوہ ان کا مقدمہ خدا کی عدالت میں بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انھیں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے نے بہت دکھ دیا ہے اور اب وہ سپریم کورٹ میں اپیل کر رہی ہیں اور انھیں اس سلسلے میں پاکستانی عوام کا ساتھ چاہئے۔

دھیمے لہجے مگر مضبوط قوت ارادی کی حامل مختاراں مائی کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے اس کیس کے ملزمان کی بریت سے ان کو ہی نہیں ان کے گھر والوں کو بھی مستوئی قبیلے سے خطرہ لاحق ہے مگر تمام تر خطرات کے باوجود وہ بدستور اسی گاؤں میں رہیں گی جہاں وہ اپنا سکول چلا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والوں کو وہی سزا ملنی چاہئے جو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انھیں دی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے مختاراں مائی کیس میں سزائے موت پانے والے چھ میں سے پانچ ملزمان کو بری کر دیا تھا جبکہ چھٹے ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔

ممتاز قانون دان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں مختاراں مائی کا کیس لڑنے کی حامی بھر لی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس کیس میں اپیل ہائی کورٹ کے فیصلے کے بغور مشاہدے کے بعد ہی دائر کی جائے گی۔

اس موقع پر ملک بھر کی انسانی حقوق اور عورتوں پر تشدد کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں نے ایک مشترکہ پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے پورے ملک کو صدمہ پہنچا ہے اور لوگ ملک میں انصاف کے معنی کے بارے میں حیران نظر آتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہا کہ اس فیصلے سے حصول انصاف کے نظام سے لوگوں کا اعتماد بری طرح مجروع ہوا ہے۔

مختاراں مائی کی جان کو لاحق خطرے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیان میں کہاگیا ہے کہ حکومت فوری طور پر مختاراں مائی کو تحفظ فراہم کرے اور اس کیس کے ملزمان کو حراست میں لے۔

تنظیموں کا یہ بھی موقف تھا کہ ملک میں خواتین کے خلاف تشدد اور زیادتی کے ملزمان کو ان کے جرم کی سزا نہیں ملتی جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

تنظیموں نے اپنی پریس ریلیز میں چند سوالات بھی اٹھائے اور کہا کہ اگر مختاراں مائی کو انصاف نہیں مل سکتا تو کیا اس ملک میں لوگ کبھی بھی عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا سوچ سکیں گے۔ ساتھ ہی ان تنظیموں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اجتماعی زیادتی میں ایک ملزم کو سزا دی جائے اور باقیوں کو بری کر دیا جائے۔

تنظیموں کے مطابق اگر حکومت لوگوں کو انصاف نہیں دلا سکتی تو اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔

ساتھ ہی انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ملک میں خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف ایکشن نہیں لیتے۔

ان تنظیموں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پورا ملک بلوچستان میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی پر سراپا احتجاج ہے مختاراں مائی کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ پوری قوم کے لئے ایک دھچکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد