فیصل صالح کی ضمانت منسوخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر برائے کشمیر اور شمالی علاقہ جات مخدوم فیصل صالح حیات کے خلاف انہتر کروڑ روپے سے زائد کے قرضے کی دانستہ نادہندگی کے مقدمے میں ان کی ضمانت منسوخ کر دی ہے۔ فیصل صالح حیات آجکل برطانیہ کے سرکاری دورے پر ہیں اور ان کی وطن واپسی پندرہ مارچ کو ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ قومی احتساب بیورو کی طرف سے وفاقی وزیر کے خلاف دائر مقدمے میں دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ تین مارچ کو دیا تھا مگر اس کی تفصیلات پیر کے روز جاری کی گئی ہیں۔ عدالت نے یہ کیس اب احتساب عدالت کو منتقل کر دیا ہے۔ قومی احتساب بیورو نے اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ یہ کیس خارج کر کے سٹیٹ بینک کی طرف سے قائم کی گئی ایک کمیٹی کے سپرد کر دے۔ مگر عدالت نے قومی احتساب بیورو سے کہا تھا کہ اگر وہ یہ کیس واپس لینا چاہتا ہے تو اس سلسلے میں تحریری درخواست دی جائے۔ عدالت نے قومی احتساب بیورو سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ عدالت کے کندھے پر بندوق رکھ کر نہ چلائے۔ تاہم احتساب بیورو نے بعد میں یہ تحریری درخواست دینے سے معذرت کر لی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قومی احتساب بیورو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اس نے پہلے تو وفاقی وزیر کے خلاف کیس دائر کیا مگر بعد میں اپنے موقف سے پھر کر نیا موقف اختیار کیا۔ تاہم عدالت نے کہا کہ وہ اس موقف کی تبدیلی کے بارے میں دانستہ اپنے تاثرات بیان نہیں کر رہی اور معاملہ احتساب عدالت پر چھوڑ رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||