احتساب بیورو کی درخواست رد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو قومی احتساب بیورو کی ایک درخواست واپس کر دی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ وفاقی وزیر برائے کشمیر اور شمالی علاقہ جات مخدوم فیصل صالح حیات کے خلاف تقریبا ستر کروڑ روپے کا بینک سے لیا ہوا قرضہ دانستہ واپس نہ کرنے کے کیس کو خارج کر دے۔ سپریم کورٹ کے ایک بنچ جس کی سربراہی کورٹ کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی نے کی احتساب بیورو سے کہا ہے کہ عدالت اس کیس کی سماعت دو مارچ سے شروع کرے گی۔ مخدوم فیصل صالح حیات پر ان کی شاہ جیونہ ٹیکسٹائل مل کے لیے یونائٹڈ بینک سے لیے ہوئے تقریباً ستر کروڑ قرضے کو واپس نہیں کیا جس کے بعد قومی احتساب بیورو نے وفاقی وزیر کے خلاف دانستہ قرضہ واپس نہ کرنے کا ریفرینس دائر کیا تھا۔ تاہم منگل کو سپریم کورٹ نے جب اس ریفرنس کی سماعت شروع کی تو احتساب بیورو نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس کیس کو خارج کر دے اور یہ کیس اب سٹیٹ بینک، قومی احتساب بیورو اور یونائٹڈ بینک کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشاورتی کونسل کے سپرد کر دیا جائے۔ اس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے قومی احتساب بیورو کے وکیل کو تنبیہی کی کہ ریفرنس دائر کرنے سے پہلے عدالت کو کیوں اس بارے میں مطلع نہیں کیا گیا۔ بدھ کو جب اس کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے قومی احتساب بیورو کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز کا سختی سے نوٹس لیا جس میں کہا گیا تھا کہ بیورو نے یہ ریفرنس واپس لینے کے لیے درخواست نہیں دی۔ عدالت نے کہا کہ قومی احتساب بیورو عدالت میں کچھ اور کہتا ہے اور باہر کچھ اور۔ عدالت کے ایک جج جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ قومی احتساب بیورو اس کیس میں سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کرنا چاہتی ہے جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت نے کہا کہ قومی احتساب بیورو سپریم کورٹ سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کے بجائے اگر صاف طور پر یہ لکھ کر دے کہ کہ وہ وفاقی وزیر کے خلاف کیس از خود واپس لینا چاہتا ہے تو عدالت اس کیس کو خارج کر سکتی ہے۔ تاہم قومی احتساب بیورو کے وکیل بصیر قریشی کی طرف سے عدالت کو یہ یقین دہانی نہ کرانے کے بعد عدالت نے اس کیس کو دو مارچ سے باقائدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ اپوزیشن نے قومی احتساب بیورو کی طرف سے سپریم کورٹ میں فیصل صالح حیات کے خلاف کیس واپس لینے کی درخواست کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بات اب کھل چکی ہے کہ قومی احتساب بیورو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے سیاستدانوں پر لگے کرپشن کے داغ دھونے کا ذریعے بن چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||