’قرضہ نہیں مالیاتی سہولت لی تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر شمالی علاقہ جات و کشمیر فیصل صالح حیات نے قرضہ کی نادہندگی کے مقدمہ میں ایک احتساب عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کر وایا اور کہا کہ انہوں نے بینک کی شرائط پوری کرکے مالیاتی سہولت لی تھی۔ فیصل صالح حیات پر لاہور کی ایک احتساب عدالت میں یونائیٹڈ بینک لیمیٹڈ کے چوبیس کڑور روپے سے زیادہ کے قرضہ کو دانستہ طور پر واپس نہ کرنے کے حوالہ سے ایک کیس زیر سماعت ہے ۔ انہوں نےانیس سو نواسی میں یہ قرضہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے دور میں اُس وقت لیا تھا جب وہ کامرس کے وفاقی وزیر تھے اور شاہ جیونہ ٹیکسٹائل مل لگائی تھی۔ آج وفاقی وزیر نے اپنے ڈھائی گھنٹے کے بیان میں جج رانا زاہد محمود کے سامنے کہا کہ انہوں نے شرائط پوری کر کے مالیاتی سہولت لی تھی۔ یہ قرضہ نہیں تھا لیکن جب بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم ہو گئی تو بینک نےان کی حریف وفاقی وزیر عابدہ حسین کے کہنے پر ان کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ فیصل صالح حیات نے کہا کہ انہوں نے قرضہ لینے کے لیے وفاقی وزیر کے طور پر اپنا اثر استعمال نہیں کیا بلکہ بینک کی تمام شرائط پوری کیں اور مشینری منگوائی۔ تاہم بے نظیر حکومت ختم ہونے کے بعد ان سے وزارت خزانہ نے این او سی مانگا جبکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا گیا تھا اور ان کا معاملہ بینک کے ساتھ تھا نہ کہ وزارت خزانہ کے ساتھ۔ فیصل صالح نے کہا کہ ان سے بینک کے اہلکار نجی طور پر کہتے رہے کہ وہ اسلام آباد جاکر سیاسی حکام سے اپنا معاملہ حل کروائیں ۔ فیصل صالح نے کہا کہ ان کی براہ راست حریف عابدہ حسین اس وقت وفاقی وزیر تھیں اور وہ اس میں براہ راست ملوث تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ٹیکسٹائل مشینری بندرگاہ پر تھی تو اس میں آگ لگ گئی اور انکو آدھی مشینری کے ساتھ کام شروع کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بینک پر دعوی بھی دائر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بینک کا رویہ بنک کی اقدار اور روایات کے خلاف تھا۔ عدالت نے فیصل صالح حیات سے کہا کہ وہ آئندہ وقت پر عدالت میں حاضری کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے آج عدالت سے تاخیر سے آنے کی معذرت کی۔ ایک موقع پر عدالت نے فیصل صالح کو کہا کہ وہ مختصر بیان دیں اور عدالت انہیں دفاع کا پورا موقع دے گی۔ تاہم فیصل صالح حیات کا بیان ابھی جاری ہے اور سترہ جنوری کومزید بیان ریکاڈ کرایں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||