BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 July, 2004, 21:00 GMT 02:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرا ضمیر مطمئن ہے: مخدوم فیصل
فیصل صالح
فیصل صالح بی بی سی اردو کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں
پاکستان کے وزیر داخلہ مخدوم فیصل صالح حیات نے کہا ہے پاکستان کو مذہبی دہشت گردی کا سامنا ہے اور ایسی تنطیمیں سامنے آ رہی ہیں جن کا پہلے کبھی نام بھی نہیں سنا گیا تھا۔

بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں جند اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ اس نئی تنظیم کا کسی کو پتہ بھی نہیں تھا لیکن اس کے ارکان کراچی کور کمانڈر اور دیگر حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔

اپنی پارٹی چھوڑ کر حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کا دفاع کرتے ہوئے فیصل صالح حیات نے کہا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی سوچ سمجھ کر کی تھی، اور ان کو آج بھی یقین ہے کہ اگر وہ اپنی پارٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومتی اتحاد میں شامل نہ ہوتے تو پاکستان میں موجودہ جمہوری نظام قائم نہ رہتا۔

ان کا کہنا تھا: ’میرا ضمیر مطمئن ہے اور میں نے جو کچھ کیا وہ ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کیا ہے‘۔

پاکستان پیلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ملک سے باہر بیٹھ کر ’پراکسی سیاست‘ کر رہی ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ’چھوٹے درجے کے پارٹی ملازمین کے حوالے کر دیا گیا ہے‘۔

ضمیر
 میرا ضمیر مطمئن ہے اور میں نے جو کچھ کیا وہ ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کیا ہے۔
فیصل صالح

مخدوم فیصل صالح حیات نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جنرل مشرف کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت انتخابات میں حصہ لیا اور جب جنرل مشرف نے حکومت ’کچھ شخصیات‘ کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو پاکستان پیپلز پارٹی نے تمام نظام کو سبوتاژ کرنا چاہا جس کو انہوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے روکا۔

فیصل صالح حیات نے کہا کہ انہوں نے کبھی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کیے اور نہ ہی آئندہ کریں گے۔

اپنے اوپر لگے کرپشن کے ا لزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان پر کرپشن کا الزام نہیں ہے بلکہ ’جان بوجھ‘ کر قرضہ واپس نہ کرنے کا الزام تھا جس میں پاکستان کی سب بڑی عدالت، سپریم کورٹ نے ان کو بری کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی نے کسی بینک سے قرضہ نہیں لیا تھا بلکہ ایک ایل سی کھولی تھی اور اٹھارہ کروڑ کی بجائے وہ چالیس کروڑ واپس کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کا ساتھ دینے کا فیصلہ اپنے آپ کو نیب سے بچانے کے لیے نہیں کیا۔

فیصل صالح حیات نے کہا کہ پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں کے علاوہ جاگیرداری نظام ختم ہو چکا ہے ۔

پراکسی سیاست
 بے نظیر ’پراکسی‘ سیاست کر رہی ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوٹے درجے کے پارٹی ملازمین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
مخدوم فیصل

ایک سوال کے جواب میں کہ ایم کیو ایم کو جس پر بھتہ لینے کا الزام ہے سندھ میں حکومت کا حصہ دار بنا دیا گیا ہے، وزیر داخلہ نے کہا کہ جمہوریت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہو اس کو حکومت ملنی چاہیے۔

ایم کیو ایم کے سرکردہ لوگوں پر پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’یہ سب مفروضے اور خبریں ہیں‘۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کسی کے کہنے پر آپریشن نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنی ضرورت کے تحت کر رہے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کی حکومت غیرت کے نام پر قتل کو روکنے کے لیے قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے اور قانون کا پہلا مسودہ ایک مہینے کے اندر وفاقی کابینہ کے سامنے آ جائے گا۔

پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ دنیا کے تمام بڑے شہروں، لندن، پیرس، نیویارک وغیرہ میں امن وامان کی صورتحال کراچی سے زیادہ مختلف نہیں ہے، لیکن کراچی کے بارے میں ایک تاثر بنا دیا گیا ہے۔

مخدوم فیصل صالح حیات نے کہا کہ پاکستانی پولیس نوے فیصد جرائم کا پتہ لگا لیتی ہے اس کی کارکردگی دنیا کی بہت سارے ملکوں کی پولیس سے بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں پولیس کے فرسودہ نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور نئے قانون کے تحت پولیس کو جواب دہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اصلاحات کے اثرات کچھ عرصے بعد ہی نظر آنا شروع ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد