| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اربوں کےقرضےمعاف کرنےکاالزام
حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد ’اتحاد برائے بحالئ جمہوریت‘ (اے آر ڈی) نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت پر اربوں ڈالر کے قرضے معاف کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اتوار کی سہ پہر جاری ہونے والے ایک وائٹ پیپر (کارکردگی سے متعلق دستاویز) میں بارہ اکتوبر سن انیس سو ننانوے کو وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے ہٹائے جانے سے لے کر صدارتی ریفرنڈم کے انعقاد، عام انتخابات اور ’دستاویز‘ کے الفاظ میں ’کنگز پارٹی‘ کی کامیابی تک مکمل سیاسی صورتحال کا پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں ملک کی پارلیمانی حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان آئینی ترامیم سے متعلق صدارتی حکمنامہ لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) اور جنرل پرویز مشرف کی وردی کے سوال پر مسلسل تعطل کی بات کی گئی ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے جنرل پرویز مشرف کا رویہ مذاکرات میں تعطل کا باعث بنا رہا۔
سات صفحوں پر مشتمل اس دستاویز میں جو اے آر ڈی کے سیکریٹری اطلاعات منیر احمد خان نے ایک اخباری کانفرنس میں پڑھ کر سنایا ملک کی سیاسی و اقتصادی صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کیونکہ اے آر ڈی کے بقول اس دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا بلکہ اٹھارہ لاکھ کے قریب پاکستانی اربوں ڈالر کے سرمائے کے ساتھ بیرون ملک منتقل ہوگئے ہیں۔ اس دستاویز میں گزشتہ چار برس میں قتل، ڈکیتی اور آبروریزی کی وارداتوں میں تین سو سے لے کر پانچ سو فیصد تک اضافہ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں منیر احمد خان نے کہا کہ یہ اعداد و شمار سرکاری دستاویزات سے حاصل کئے گئے ہیں۔ اس سے زیادہ حیرتناک دعویٰ چھبیس ارب روپے مالیت کے قرضوں کی معافی اور تیس ارب مالیت کے قرضوں کی مزید ممکنہ معافی سے متعلق ہے جن کے سلسلے میں برسراقتدار جماعت کے بعض اہم رہنماوں کے نام بھی لئے گئے ہیں۔ اے آر ڈی اس ’وائٹ پیپر‘ کی دو اور قسطیں اس ہفتے کے دوران جاری کرنے والی ہے جن میں سے ایک کا موضوع احتساب کا عمل ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||