دونوں عہدے رکھوں گا: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے وہ صدر اور چیف آف آرمی سٹاف دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں گے۔ ’آئین اور قانون انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ سن دو ہزار سات تک صدر اور آرمی چیف دونوں عہدے اپنے پاس رکھ سکیں اور وہ آئین سے انحراف نہیں کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے یہ بل پاس کیا ہے کہ انہیں دونوں عہدے رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اکثریت کا فیصلہ ہے اور اقلیت کو اکثریت کا فیصلہ ماننا چاہیے۔ وہ جمعرات کی شب ٹی وی ریڈیو پر قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وردی نہ چھوڑنے کا ایک سال پرانا اعلان رضاکارانہ طور پر کیا گیا تھا اور اس کا ایم ایم اے سے ہونے والے معاہدے میں کوئی ذکر نہیں تھا ۔ صدر نے کہا کہ ایک سال پہلے جب انہوں نے وردی اتارنے کا اعلان کیا تھا تو اس کے ساتھ انہیں کچھ امیدیں اور توقعات تھیں ’جن میں سے ایک تو سترہویں ترمیم پاس ہونے کی تھی اور دوسری یہ تھی اپوزیشن کوئی بہتر رویہ اپنائے گی اور سنجیدہ سیاست کرے گی۔ مستحسن طریقے سے موجودہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کی اجازت ہوگی۔اور سیاسی نظام زیادہ بہترانداز میں چلے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ایک سا ل کے دوران متحدہ مجلس عمل نے کئی بار ان سے وعدہ خلافی کی اور اپوزیشن کا رویہ بد سے بد تر ہوتا چلا گیا ۔ ’وہ اقلیت کو اکثریت پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔اور انہوں نے دھمکی دی تھی کہ یونیفارم اتارنا تو پہلا قدم ہوگا‘۔ صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے دنیا اور علاقائی معاملات پر بھی نظر ڈالی اور پھر فیصلہ کیا کہ اس حکومت اور پارلیمان کو اپنی مدت پوری کرنا چاہیے اور ضروری ہے کہ پالیسی میں تسلسل رہے اور جمہوریت کو مستحکم کیے رکھنا پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک پاکستان میں دہشت گردی میں سرگرم چند غیر ملکی اور چند مقامی افراد کے خلاف ملٹری ایکشن اور اس کے ساتھ سا تھ سیاسی بات چیت کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے ۔ ’کشمیر کے سلسلے میں بھارت سے جو پیش رفت ہو رہی ہے اور اس سے تعلقات میں بہتری کے جو معاملات چل رہے ہیں ان کا تسلسل ضروری ہے ۔ دنیا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی داخلی اور خارجہ پالیسی کا جاری رہنا ضروری ہے ۔اندرونی انتہا پسندی کو اعتدال میں لانا اور قومی مفادات کو قائم رکھنا تمام صورتحال کے پیش نظرضروری ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے قانونی طورپر بھی اور آئینی طور پر بھی دیکھا ہے اور ان کے مطابق وہ دو ہزار سات تک دونوں عہدے رکھ سکتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا ’میں کبھی آئین نہیں توڑوں گا‘۔ صدر مشرف نے کہا کہ مجھے یہ بہی معلوم ہے کہ وردی عوام کا مسئلہ نہیں ہے اور اسے خوامخواہ اچھالاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اندرونی اور بیرونی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی بہت ہی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے فیصلے کو تسلیم کرے اور غیر جمہوری طرز عمل سے پر ہیز کرے ۔ انہوں نےکہا کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی اور اپریل میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے۔ صدر مشرف نے کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ جاری رہے گی ۔ ’تمام ترقیاتی منصوبے جاری رہیں گے اور جلد مکمل ہوں گے‘۔ ’کشمیر کا تنازعہ کو باعزت طریقے سے حل کرنے کی کوشش ہوگی اور بھارت سے تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش ہونگی پاکستان کی بری اور فضائی قوت کو مزید بڑھایا جائے گا‘۔ صدر مشرف کا کہنا تھا ’ہم اپوزیشن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں وہ آگے آئیں اور ساتھ ملکر پاکستان کو ایک روشن سمت لے جائیں اور اس کے برخلاف جمہوریت کو کمزور نہ کریں‘۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے انہوں نے سیاسی طور پر ہر وعدہ پورا کیا ہے۔ انہوں نے وعدے کے مطابق مقررہ وقت میں بلدیاتی نظام متعارف کراکے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے ۔انہوں نے کہا سپریم کورٹ نے انہیں جو تین سال کی مدت دی تھی انہوں نے اس کے مطابق تین سال کے اندر الیکشن کراکے حکومت ایک منتخب وزیراعظم کے سپرد کر دیں حالانکہ وہ چاہتے تو گیارہ ستمبر کے واقعات کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ سے کہہ سکتے تھے اس مدت میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے اپنے اقتدار سنبھالنے سے پہلے کے ملکی حالات کو بدتر قرار دیا اور کہا کہ ملک کی معاشی صورحال ابتر تھی اور ملک نادہندہ قرار دیے جانے کے قریب تھا۔ ’کرپشن بدامنی اور دہشتگردی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ سیاسی صورتحال بھی ابتر تھی اور اپوزیشن جی ایچ کیو میں جاکر چیف آف آرمی سٹاف کو کہتی تھی کہ تخت الٹ دو،حکمرانوں نے چودہویں ترمیم کرکے اراکین اسمبلی کے اختیارات سلب کر لیے تھے۔اور پاکستان کی دنیا بھر میں اچھوت ملک سمجھا جاتا تھا‘۔ صدر کا کہنا تھا کہ ان کے اپنے دور میں حالات یکسر تبدیل ہوئے ہیں اب دنیا میں پاکستان کی بات سنی جاتی ہے ۔ انہوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیر کے حل میں لچک دکھانے کو تیار ہے لیکن دوسری جانب سے بھارت کو بھی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا پہلے وہ بین الاقوامی ادراوں سے امداد مانگتے پھرتے تھے لیکن پاکستان ان کے کنٹرول سے باہر بھی نکل آیا ہے اور اس کی ساکھ بھی بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوئی صنعتکار یا جاگیر دار نہیں بلکہ خود بھی غریب رہے ہیں اور انہیں غریب کی مشکلات کابہتر اندازہ ہے اس لیے وہ بہتر انداز میں غربت کے خاتمے کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں پاکستان میں میں ذرائع ابلاغ کو بڑی آزادی ملی ہے۔ ’انیس سو ننانوے میں میرے سامنے ایک دو مائیک ہوتے تھے اور آج درجنوں مائیک سامنے ہوتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چند انتہا پسند ہیں خود ان کے الفاظ میں جیش سپاہ اور لشکر جیسے انتہا پسند عناصر کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ’یہاں ستانوے فی صد عوام پکے ایمان والے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’ہمیں تاریکی طرف لے جانے والے عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے اور اعتدال پسندوں کی اکثریت کو انتہا پسند اقلیت پر حاوی کرنا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||