BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 September, 2004, 09:26 GMT 14:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف وردی اتارنے کے پابند‘
صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف
صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف
ممتاز قانون دان اور لیگل فریم ورک آرڈر کے تنازعہ پر متحدہ مجلس عمل سے مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے اہم رکن سینیٹر ایس ایم ظفر کی نئی کتاب ’ڈائیلاگ آن دی پولیٹیکل چیس بورڈ‘ شائع ہوئی ہے۔

ایس ایم ظفر نے اپنی کتاب میں حکومت اور مجلس عمل کے درمیان مذاکرات کی تفصیلات بتائی ہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑنے پر خود رضامندی ظاہر کی تھی اور سترہویں آئینی ترمیم کے تحت وہ اکتیس دسمبر سن دو ہزار چار تک وردی اتارنے کے پابند ہیں۔

ایس ایم ظفر نے لکھا ہے کہ صدر مملکت گاہے بہ گاہے اس بات کا اظہار کرتے رہتے تھے کہ صدر کے پاس دو عہدے نہیں ہونے چاہئیں مگر ان کا خیال تھا کہ وردی اتارنے کے لیے انہیں ٹائم فریم کا پابند نہ کیا جائے بلکہ اس کا فیصلہ ان کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن آخر کار صدر پرویز مشرف اکتیس دسمبر سن دو ہزار چار تک وردی اتارنے پر رضامند ہو گئے۔

ایس ایم ظفر نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب ان کی صدر مشرف سے ملاقاتیں ہوئیں تو انہیں اس بات میں سچائی نظر آئی کہ صدر جنرل پرویز مشرف دوسروں کی بات بہت تسلی سے سنتے ہیں۔

۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد