’مشرف وردی اتارنے کے پابند‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممتاز قانون دان اور لیگل فریم ورک آرڈر کے تنازعہ پر متحدہ مجلس عمل سے مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے اہم رکن سینیٹر ایس ایم ظفر کی نئی کتاب ’ڈائیلاگ آن دی پولیٹیکل چیس بورڈ‘ شائع ہوئی ہے۔ ایس ایم ظفر نے اپنی کتاب میں حکومت اور مجلس عمل کے درمیان مذاکرات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑنے پر خود رضامندی ظاہر کی تھی اور سترہویں آئینی ترمیم کے تحت وہ اکتیس دسمبر سن دو ہزار چار تک وردی اتارنے کے پابند ہیں۔ ایس ایم ظفر نے لکھا ہے کہ صدر مملکت گاہے بہ گاہے اس بات کا اظہار کرتے رہتے تھے کہ صدر کے پاس دو عہدے نہیں ہونے چاہئیں مگر ان کا خیال تھا کہ وردی اتارنے کے لیے انہیں ٹائم فریم کا پابند نہ کیا جائے بلکہ اس کا فیصلہ ان کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن آخر کار صدر پرویز مشرف اکتیس دسمبر سن دو ہزار چار تک وردی اتارنے پر رضامند ہو گئے۔ ایس ایم ظفر نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب ان کی صدر مشرف سے ملاقاتیں ہوئیں تو انہیں اس بات میں سچائی نظر آئی کہ صدر جنرل پرویز مشرف دوسروں کی بات بہت تسلی سے سنتے ہیں۔ ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||