بلوچستان: وردی پر قرارداد واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان اسمبلی میں آج مسلم لیگ وزیر اعلی جام محمد یوسف کی قیادت میں وہ قرار داد ناکامی کے خوف سے پیش نہیں کر سکی جس میں صدر پرویز مشرف کو فوجی وردی اور صدارت دونوں عہدے پاس رکھنے کی حمایت کر نا تھی۔ ایوان میں آج مجلس عمل اور حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد مسلم لیگ کے ارکان سے زیادہ تھی اور قرار داد کی ناکامی کی وجہ سے وزیر خزانہ احسان شاہ نے سپیکر سے کہا کہ وہ اس قرار داد کو موخر کرنا چاہتے ہیں جس پر سپیکر بلوچستان اسمبلی نے ارکان سے کہا کہ وہ ہاتھ اٹھا کر بتائیں کہ آیا یہ قرار داد موخر کر دی جائے جس پر مسلم لیگ اور مجلس عمل نے ہاتھ اٹھا کر کہا کہ مسلم لیگ یہ قرار داد واپس لے سکتی ہے۔آج کوئٹہ شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ یہ قرار داد مسلم لیگ کی طر ف سے پیش کرنا تھی جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی صورت میں ملک کو ایک بہترین قیادت میسر ہے لہذا یہ ایوان ملک کی سلامتی معاشی ترقی اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسمبلیوں کو محلاتی سازشوں سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے محفوظ رکھنے کے لیے صدر پرویز مشرف سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ چودہ کروڑ عوام کی خواہشات کے عین مطابق ملک کی صدارت اور آرمی چیف کے عہدے بیک وقت اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے اس بارے میں صحافیوں سے باتیں کرے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی نے میں آج ایک تاریخی دن تھا جس میں حکومت کے ان دعوں کی قلعی کھل گئی ہے کہ عوام صدر کو دونوں عہدے رکھنے کے لیے اصرار کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ مجلس عمل نے مسلم لیگ کا ساتھ نہ دے کر جمہوریت اور جمہوری اداروں کے لیے ایک بہتر فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے اسمبلی میں ایک قرار داد جمع کرائی تھی لیکن اگلے روز واپس لے لی تھی۔اب وزیر اعلی اور صوبائی وزراء نے پیش کرنا تھی لیکن اسے موخر کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس قرار داد میں کچھ کمی تھی اور یہ کہ اس وقت وہ قرار داد پیش نہیں کر سکتے تھے اس لیے واپس لے لی لیکن انھوں نے کہا ہے کہ یہ قرار داد دوبارہ پیش کی جائے گی۔ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر اور سینیئر صوبائی وزیر مولانا واسع نے کہا ہے کہ انھیں مرکزی قیادت نے کہا تھا کہ پارٹی کے مرکزی فیصلوں کے تحت اس قرار داد کی مخالفت کرنا ہے اس لیے مخلوط حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے انھوں نے اس کی مخالفت کرنا تھی اور آئندہ بھی اگر اس طرح کی قرار داد پیش کی گئی تو وہ اس کی مخالفت کریں گے۔ آج اجلاس میں مجلس عمل کے چھ ارکان غیر حاضر تھے اس کے علاوہ حزب اختلاف کے کئی ارکان موجود نہیں تھے جن میں سردار عطاءاللہ مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی کے دونوں ارکان شامل ہیں ۔ بی این پی حکومتی پالیسیوں کی سخت مخالف ہے۔ ڈاکٹر عبدالحئی کی نیشنل پارٹی نواب اکبر بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے ایک ایک رکن موجود نہیں تھے جبکہ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پانچوں ارکان ایوان میں موجود تھے۔ کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ وہ ان جماعتوں کے قائدین سے کہیں گے کہ اتنے اہم اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر ان اراکین کے خلاف کارروائی کی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||