وردی کا وعدہ وفا نہ ہو گا: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ چھوڑنےکا وعدہ پورا نہ کر سکیں کیوں کے پاکستانی عوام کی اکثریت چاہتی ہے کہ وہ یہ عہدہ اپنے پاس ہی رکھیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر میں انہوں نےقوم سے وردی اتارنے کا جو وعدہ کیا تھا اس کے بعد سے ملک کے حالات بہت حد تک تبدیل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وردی اتارنے کے بارے میں انہوں نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور وہ اب بھی عوام کی منشاء جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نےکہا ابھی سال ختم ہونے میں کافی وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر پاکستان کی داخلی سلامتی اور اندرونی حالات ایسے ہیں جن کی وجہ سے ہو سکتا ہے وہ یہ عہدہ اپنے پاس ہی رکھیں۔ انہوں نے داخلی سلامتی کے حوالے سے دہشت گرد کارروائیوں اور پانی کے مسئلہ پر صوبوں میں پائی جانے والی کشمکش کا ذکر بھی کیا۔ اخبار کے مطابق مشرف کے اس فیصلے سے پاکستان میں احتجاج شروع ہو سکتا ہے کیوں کہ مشرف سن انیس سو ننانوے میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے آج تک ملک میں مستحکم جہوری نظام قائم کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ مشرف کا یہ فیصلہ بش انتظامیہ کے لیے بھی مشکل صورت حال پیدا کر سکتا ہے کیوں کہ بش انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پوری مسلم دنیا میں جہوریت کے فروغ پر زور دیتی رہی ہے۔ مشرف نے دونوں عہدوں پر فائز رہنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ وردی اتارنے کے مسئلہ کو جہوریت سے جوڑ رہے ہیں۔ اخبار میں ایک اور انٹرویو کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں مشرف سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ وہ وردی اتارنے سے اس لیے خائف ہیں کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ کوئی اور سنبھال لے گا اور اس طرح ان کا ایک مدمقابل پیدا ہو جائے گا۔ صدر مشرف نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوج ان کے ساتھ ہے اور آئندہ چیف آف آرمی اسٹاف بھی ان کا ہی نامزد کردہ ہو گا اور وہ میرے ساتھ مکمل طور پر وفا دار ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا وہ فوج کو طاقت کے مرکز کے طور پر نہیں دیکھتے اور فوج اور ان کے درمیان کسی طرح کی کوئی کشمکش نہیں۔ انہوں نے کہا یہ مسئلہ اصل میں بعض لوگوں کے ذہنوں میں ہے اور لوگوں کا خیال ہے کہ میں وردی اترانے سے کمزور ہو جاؤں گا اور اگر اس طرح کا خیال تقویت پکڑتا ہے تو یہ پاکستان کے مفاد میں اچھا نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا انہیں لوگ خطوں اور فون کالوں کے ذریعے یہ عہدہ اپنے پاس رکھنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ پاکستان کو لاحق دہشت گردی کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی پہاڑیوں میں روپوش القاعدہ کے سرکردہ عناصر پاکستان میں موجود مقامی شدت پسندوں کے ساتھ مل کر یہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ صدر مشرف نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ اسامہ بن لادن اب تک پاکستان کے قبائلی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے میں بڑی تعداد میں فوج موجود ہے اور ملک کے دوسرے حصوں میں بھی القاعدہ کے عناصر کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان اب دہشت گردوں کے لیے ’محفوظ‘ نہیں رہا۔ صدر مشرف نے کہا کہ حال ہی گرفتار کئے جانے والے القاعدہ کے عناصر سے جو خفیہ معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق القاعدہ کے رہنما صومالیہ میں پناہ کی تلاش کر رہے ہیں۔ صدر مشرف نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں میں کی جانے والی فوجی کارروائیوں میں جن کو اکثر امریکی سٹیلائٹ سے رہنمائی بھی حاصل ہوتی ہے بہت سے شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے امریکی اور بھارتی حکام کے ان دعوؤں کی کہ پاکستان میں اب بھی شدت پسندوں کے کیمپ قائم ہیں تردید کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کے کوئی کیمپ نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کومکمل طور پر بند کرنا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس کے بارے میں بہت پر امید ہیں۔ تاہم انہوں نے بھارت کی اس تجویز کو رد کر دیا کہ جب تک دیگر مسائل کو حل نہیں کر لیا جاتا مسئلہ کشمیر پر بات چیت کوملتوی کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے اور کشمیر کے مسئلہ کو مزید موخر نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ٹھیک کرنے کے لیے انہیں تمام مسائل کوحل کرنا ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||