وردی سےمتعلق سرکاری بیان واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف فوجی وردی اتارنے کے اپنے وعدے پر قائم نہیں رہیں گے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا کہ آیا جنرل مشرف وردی اتاریں گے یا نہیں۔ اس سے پہلے وزیرِ اطلاعات کے حوالے سے یہ کہا گیا تھا کہ صدر مشرف آرمی چیف کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گے اور وردی نہیں اتاریں گے۔ اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ اس بیان کے محض چند گھنٹے بعد شیخ رشید نے ایک وضاحتی بیان میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ ’میری مراد یہ تھی کہ مجھے امید ہے کہ صدر مشرف آرمی چیف کے عہدے پر فائز رہیں گے۔‘ اس مسئلے پر جمعرات کو قومی اسمبلی میں بحث ہوگی۔ شیخ رشید نے اپنا پہلا بیان بدھ کی رات اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قومی صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ پرویز مشرف پاکستان کے صدر بھی رہیں اور فوج کے سربراہ بھی۔ ادھر سابق وزیرِ اعظم ظفراللہ جمالی نے کہا ہے کہ ابھی دسمبر آنے میں تین مہینے سے زیادہ وقت باقی ہے لہذا صدر مشرف کے وردی اتارنے یا نہ اتارنے کے مسئلے پر بحث کی کوئی ضرورت نہیں۔ بی بی سی کے سہیل حلیم کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ’پتہ نہیں لوگ اتنے بے صبر کیوں ہو جاتے ہیں۔ صدر مشرف کو وردی آپ نے پہنائی ہے نہ میں نے بلکہ یہ وردی انہوں نے خود حاصل کی ہے اور اس کو اتارنے یا نہ اتارنے کا فیصلہ بھی ان کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیئے۔‘ سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کے دور میں ایم ایم اے اور حکومت کے درمیان جو سمجھوتہ ہوا تھا اس کے مطابق اکتیس دسمبر دو ہزار چار کے بعد معائدے کی شق ڈی ون پھر سے عمل میں آ جائے گی اور اس شق کا تعلق صدر کی وردی سے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||