BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 September, 2004, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف کے دورہ امریکہ کی تیاریاں

جنرل مشرف کے امریکی دورے سے قبل ایک بار پھر پاکستان میں ’بہت کچھ‘ ہورہا ہے
جنرل مشرف کے امریکی دورے سے قبل ایک بار پھر پاکستان میں ’بہت کچھ‘ ہورہا ہے
ان دنوں صدر جنرل پرویز مشرف کے امریکہ جانے کی زبردست تیاریاں ہورہی ہیں۔ ہندوستان سے امن مذاکرات ہوگۓ۔ جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے مبینہ دہشت گردوں کے خلاف فوجی کاروائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ پارلیمنٹ سے نیوکلیئر پھیلاؤ روکنے کے قانون کو منظور کرایا جارہا ہے اور اسمبلیوں سے صدر مشرف کی وردی کے حق میں قراردادیں منطور کرائی جارہی ہیں۔

اگلے ہفتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے جنرل پرویز مشرف نیویارک روانہ ہوں گے جہاں ان کی امریکی صدر جارج بش کے علاوہ ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ سے بھی بات چیت ہوگی جس کے بارے میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اس بات چیت کو بہت اہمیت کاحامل سمجھتا ہے۔

امریکہ کے پاکستان سے متعلق مفادات تین اہم معاملات سے متعلق ہیں۔ مفادات ہیں: دہشت گردی، پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن بات چیت اور چوتھا نسبتا کم اہم معاملہ صدر پرویز مشرف کی جمہوری ساکھ ہے۔

امریکہ کے نزدیک سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ پاکستان مبینہ القاعدہ کی دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی مدد جاری رکھے اور افغانستان سے بھاگ کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جن لوگوں نے پناہ لی تھی ان کو حراست میں لیا جائے اور غیرموثر بنادیا جائے۔

طالبان اور القاعدہ کے حوالہ سے افعانستان میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کچھ عرصہ پہلے پاکستان پر انگشت نمائی کی تھی جس کے بعد پاکستانی فوج کی جنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائیوں میں تیزی آگئی اور پنجاب کے شہروں سے جگہ جگہ سے القاعدہ کے بڑے روپوش رہنماؤں کو گرفتار کیے جانے کے دعوے کیے گۓ جن میں گجرات سے پکڑا جانے والا تنزانیہ کا باشندہ احمد خلفان شامل تھا۔

جنوبی وزیرستان میں ایئر فورس بھی مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میں شامل ہوگئی ہے جس کا اقرار ایئر فورس کے سربراہ کلیم سعادت نے کل کراچی میں پریس کانفرنس میں کیا۔ دو روز پہلے محسود قبائل کے علاقے میں ایسے پہلے فضائی حملہ میں ستر کے قریب غیر ملکی اور قبائلی ہلاک ہوئے جو اب تک ایسی کسی ایک فوجی کاروائی میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

منگل کے روز قومی اسمبلی نے نیوکلیئر عدم پھیلاؤ کا قانون منظور کیا جو امریکہ میں ارکان پارلیمینٹ کی تشویش کا ایک بڑا معاملہ سمجھا جاتا ہے اور جس پر پاکستان کو تیز سوالات کا ہمیشہ سامنا رہا ہے۔

پاکستانی ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نیوکلیئر پھیلاؤ میں ملوث پائے جانے کے بعد ان کی معافی اور سائنس دانوں کی نظر بندی کے بعد پاکستان میں اقوام متحدہ کی قرارداد پندرہ سو چالیس کے مطابق نیوکلیئر عدم پھیلاؤ کے لیے قانون سازی کرکے جنرل پرویزمشرف اقوام متحدہ اور امریکہ کو اس معاملہ پر پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات پر اطمینان دلا سکتے ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کا جاری رہنا صدر پرویز مشرف کے اس دورہ کا سب سے اہم مدعا ہوسکتا ہے کیونکہ ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ بھی صدر بش سے مل رہے ہیں اور مشرف اور من موہن سنگھ کے مذاکرات ہوں گے۔ اس بات چیت سے بہت توقعات وابستہ کی جارہی ہیں۔

ہندوستان کی طرف سے جموں و کشمیر میں پاکستان کی طرف سے دراندازی جاری رکھنے کے الزامات پر زور دیا جاسکتا ہے، کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے اس ضمن میں اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور پاکستان ہندوستان کی جانب سے کشمیر کے معاملہ پر بات چیت میں سست روی کا معاملہ اٹھاسکتا ہے۔

ہندوستان سے الجھے شاید انہی معاملات کو قدرے سیدھا کرنے کے لیے صدرمشرف اپنے معتمد اور قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری طارق عزیز کو دلی بھیج رہے ہیں جہاں وہ اپنے ہم منصب جے این دِکشت سے دوطرفہ معاملات پر پس پردہ بات چیت کریں گے۔ پاکستان امریکہ سے کہہ سکتا ہے کہ ہم نے دراندازی کے معاملہ پر ہندوستان کی تشویش دور کرنے کے لیے بات چت کی ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کی فوجی وردی اور ملک کے اندر ان کی قبولیت اور سیاسی ساکھ کو مستحکم ثابت کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی نے ایک روز پہلے ان کے وردی کے حق میں قرارداد منظور کرلی ہے اور بلوچستان میں پیش کردی گئی ہے جبکہ سندھ اسمبلی کا اجلاس بلایا جارہا ہے۔ صرف سرحد اسمبلی نے، جہاں مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل برسراقتدار ہے ، اس کے خلاف قرارداد منطور کی ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور کچھ بعید نہیں جیسا کہ پنجاب کے وزیراعلی نے کہا تھا یہاں بھی وردی کے حق میں قرارداد منظور کرالی جائے۔ سابق صدر فاروق لغاری اور کشمیری رہنما سردار عبدالقیوم اس کے حق میں بیانات دے چکے ہیں۔

یوں صدر جنرل مشرف سب اسمبلیوں سے ایک سیاسی حمایت کا ووٹ لے کر امریکہ جارہے ہیں اور انہوں نے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ مغربی ممالک بھی ان کی وردی کی حمایت کریں گے۔ صدر مشرف ایک سال پہلے جب امریکہ گۓ تھے اس وقت سترہویں ترمیم منظور نہیں ہوئی تھی اور اس وقت بھی پنجاب اسمبلی نے ان کے حق میں قرارداد منظور کی تھی۔

صدر پرویز مشرف نے امریکہ کی طرف سے اٹھائے جانے والے معاملات پر تو تیاری مکمل کرلی ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس کے بدلے امریکہ سے کیا حاصل کرسکیں گے۔ پاکستان کی دو بڑی ضرورتیں ہیں۔ ایک پیسہ (مالی امداد) اور دوسری فوجی ہتھیار۔ ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے لیے پاکستان نے بیس سال سے امریکی فرم کو رقم کی ادائیگی کی ہوئی ہے لیکن امریکی انتظامیہ سے اجازت نہ ملنے کے باعث یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا۔

پاکستان میں امریکی سفیر نینسی پاول نے گزشتہ روز کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کو تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے دوسو ملین ڈالر کی امداد دے گا اور ایئرفورس کے سربراہ کلیم سعادت نے کہا ہے کہ امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو ایف سولہ طیارے بیچنے کے لیے تیار ہے لیکن امریکی انتخابات کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوگئی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر مشرف جو اتنی تیاریوں سے امریکہ جارہے ہیں امریکہ سے پاکستان کے لیے کیا منوا پاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد