مشرف: وردی پر تنازعہ پھر زندہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف کی فوجی وردی کے حق پنجاب مسلم لیگ کی قرار داد نے اس معاملے کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں صدر جنرل پرویز مشرف سے کہا گیا تھا کہ وہ ایک عہدہ رکھنے کے حوالے سے کسی پراپیگنڈہ سے متاثر ہو کر قطعی طور پر وردی نہ اتاریں۔ وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے بھی ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صدر مشرف نے فوجی وردی اتار دی تو ملک افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق پیر کے روز صدر مشرف کی فوجی وردی کے حوالے سے اخبارات میں کئی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ صدر مشرف نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو دیئے گئے انٹرویو کہا ہے کہ ملک کے چھیانوے فیصد افراد ان کے فوج کے سربراہ رہنے کے حق میں ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق یہ قراردیں اور حکومتی عہدیداروں کے بیانات اسی سرکاری مہم کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف حزب اختلاف کے رہنما ان بیانات پر خاصے برہم دکھائی دیتے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ اگر ملک کی اسمبلیوں سے مشرف کے فوج کے سربراہ رہنے کے حق میں قرار داد منظور کرائی گئی تو یہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کی تذلیل کے مترادف ہو گا۔ قاضی حسین احمد نے پنجاب مسلم لیگ کی قرار داد کو آئین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سترہویں ترمیم کی رو سے صدر اکتس دسمبر دوہزار چار تک فوجی عہدہ چھوڑنے کے پابند ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||