جنرل مشرف، امریکہ کا دوست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف ان کے دوست ہیں اور اب تک القاعدہ اور طالبان کے پانچ سو سے زائد اراکین امریکہ کے حوالے کیے گئے ہیں جن میں خالد شیخ محمد بھی شامل ہیں جو کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے منصوبہ ساز تھے۔ یہ بات پاکستان میں امریکی سفارتخانہ میں قائم تعلقات عامہ کے دفتر سے جاری کردہ ’فیکٹ شیٹ، یعنی حقائق نامہ میں کہی گئی ہے۔ جس میں لکھا گیا ہے کہ ’صدر مشرف ہمارے ملک کے دوست ہیں،۔ اٹھارہ صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں گیارہ ستمبر کو امریکہ میں کیے جانے والے حملوں کے بعد امریکہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور ان سے تعاون کرنے والے ممالک کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’گیارہ ستمبر کے حملوں کی روشنی میں امریکہ نے پاکستان سے تعلقات ڈرامائی انداز میں تبدیل کیے،۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ پر القاعدہ کے حملوں سے قبل بھی پاکستانی حکام سے کہا گیا تھا کہ وہ طالبان کی حمایت ترک کریں اور القاعدہ کے خطرات ختم کرنے میں تعاون کریں۔ رپورٹ کے مطابق صدر بش نے خود فروری دو ہزار ایک میں پاکستان کو لکھا تھا کہ القاعدہ، امریکہ اور پاکستان کے مفادات کے لیے براہ راست ایک خطرہ ہے اور صدر بش نے صدر مشرف سے ذاتی طور پر پاکستان کو القاعدہ کے خلاف اقدامات کے لیے کہا تھا۔ پاکستان کے تعاون کے بعد آخرِکار امریکہ نے پانچ برس میں تین ارب ڈالر امدادی پیکیج تجویز کیا جو کہ پاکستان کی سکیورٹی، اقتصادی اور سماجی شعبے کے پروگرام کے لیے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے لب لباب جس میں کہا گیا تھا کہ ’ہماری سرزمین تو محفوظ ہے لیکن ہم ابھی محفوظ نہیں ہیں، جس سے صدر بش نے بھی اتفاق کیا ہے۔ حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستانی صدر اپنی اور اپنے ملک کی زندگی کے لیے جنگ میں ’روشن خیال اعتدال پسندی، کے عزم پر قائم رہتے ہیں تو امریکہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے فوجی امداد سے لے کر بہتر تعلیم تک پاکستان کی اس وقت تک مدد کرے گا جب تک پاکستانی رہنما اس ضمن میں کام کریں گے۔ افغانستان کے متعلق حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے طالبان کو شکست دی، القاعدہ کو بھگا دیا اور افغانستان سے دہشت گردوں کا مرکز ختم کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیرہ ہزار افغانی فوجی ہیں جبکہ اکیس ہزار پولیس میں ہیں اور امریکہ پورے ملک پر ان کا کنٹرول قائم کرنے میں مدد دے رہا۔ سعودی عرب کے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاض پر حملوں کے بعد وہ دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں شریک ہوئے ہیں اور بعض صف اول کے القاعدہ کے کارکنوں کو ہلاک بھی کیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کو طے کرنا ہوگا کہ اگر وہ تیل کے علاوہ بھی تعلقات قائم کرسکتے ہیں تو دونوں ممالک کے سیاسی رہنماؤں کو ان تعلقات کا کھلا دفاع کرنا پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||